ہر زبان کا اپنا صوتی نظام ہوتا ہے، جس میں کچھ مخصوص آوازیں زیادہ استعمال ہوتی ہیں اور کچھ آوازیں یا تو کم ہوتی ہیں یا موجود ہی نہیں ہوتیں۔ پنجابی زبان میں:
"خ” [voiceless uvular fricative] ہے) کا استعمال اردو یا عربی کے مقابلے میں کم ہے۔
لہٰذا بہت سے پنجابی بولنے والے اس آواز کو ادا کرنے کی عادت نہیں رکھتے یا مشکل محسوس کرتے ہیں۔
جب پنجابی بولنے والے اردو بولتے ہیں، تو ان کی مادری زبان (پنجابی) کا لہجہ اور آوازوں کا اثر ان کی اردو پر بھی آتا ہے۔ اسے لسانیات میں زبان کی بین اللسانی مداخلت (interference) کہا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ "خ” کی جگہ "ہ” یا کبھی "ح” بول دیا جاتا ہے۔جیسے کہ:
خوبصورت → ہوبصورت
خطرہ → ہطرہ
یہ لہجے کا فرق تو ہے، مگر اس کی جڑیں لسانیاتی نظام میں ہیں۔
یہ فرق عام طور پر ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے:
جنھوں نے اردو کو ثانوی زبان کے طور پر سیکھا ہو۔
یا جنھیں "خ” کی صحیح صوتی ادائیگی کی تربیت نہ ملی ہو۔
تعلیم یافتہ پنجابی بولنے والے اگر اردو کو فصاحت کے ساتھ بولنا چاہیں تو وہ اس فرق پر قابو پا لیتے ہیں۔
پنجاب کے دیہی علاقوں میں "خ” کی ادائیگی اکثر "ہ” کے طور پر ہوتی ہے۔
شہری علاقوں میں، خاص طور پر لاہور جیسے شہروں میں، بہت سے لوگ اردو تلفظ کے قریب تر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ فرق محض بولنے کا انداز (لہجہ) ہی نہیں، بلکہ زبان کی ساختی اور صوتی خصوصیات کا نتیجہ ہے۔ تاہم، اگر کوئی چاہے تو "خ” کی درست ادائیگی سیکھ سکتا ہے، اور اس میں کوئی لسانی رکاوٹ مستقل نہیں ہے۔
زبان کا صوتی نظام،تحریر : پارس کیانی
