پچھلے 75 سال سے سنتے،پڑھتے، لکھتے آئے ہیں کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے،مگر افسوس کہ قومی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں مل سکا۔
قومی زبان اردو سے نا انصافی یہیں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ہم نے اپنی اگلی نسلوں کو بھی اردو سے دور کر دیا۔
والدین نے گھروں میں بچوں کے ساتھ انگریزی زبان میں روزمرہ گفتگو/ بات چیت شروع کر دی اور بچوں کو انگریزی لباس پہنانا شروع کر دیا۔
آج ہمارے بچے اپنی قومی زبان و لباس دونوں سے دور ہو رہے ہیں۔
نوجوان نسل کو رومن رسم الخط کے بغیر مکمل اردو میں ایک مختصر سی تحریر لکھنے کو کہا جائے تو ان کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔
وطنِ عزیز میں قوم اتنا احساسِ کمتری کا شکار ہو گئی ہے کہ اردو بولنے والوں کو تحقیر و حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
ذہنی غلامی کی اتنی مثالیں ہیں کہ بیان کرنا مشکل ہے۔
اردو بولنے والوں سے ایک سوال جو لازمی پوچھا جاتا ہے وہ یہ کہ ” کیا آپ تعلیم یافتہ ہیں”؟
کیا آپ کو انگریزی زبان آتی ہے ؟ آپ اردو میں پیغام لکھتے ہیں تو کیا آپ کو انگریزی لکھنا نہیں آتی؟
میں اکثر ایسے لوگوں کو کہتی ہوں کہ” الحمدللّٰہ ہم اردو ،لکھنا،پڑھنا ،بولنا ، جانتے ہیں اور ہم نے English Medium انگریزی تعلیمی اداروں میں پڑھا ہے، لیکن ہم فخریہ اپنی قومی زبان کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ترجیحاً اردو بولتے ہیں کیونکہ "ہم اردو والے” ہیں۔
دنیا کے ہر ملک میں ان کی اپنی قومی زبان بطور سرکاری زبان رائج ہے صرف پاکستان واحد ملک ہے جہاں قومی زبان کو پسِ پشت ڈالا گیا ہے۔
گزشتہ دنوں یہ خبر سننے میں آئی ہے کہ امریکہ،ایران امن معاہدہ میں انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ فارسی متن میں بھی معاہدہ پر دستخط کیے گئے۔
جی ہاں ،فارسی جو ایران کی قومی و سرکاری زبان ہے۔
اس سے ایک تو امریکہ، عالمی طاقت کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا کہ ” ہم ایران کی ثقافت و تمدن مٹا دیں گے”
دوسرا، ایران نے اپنی قومی زبان فارسی میں متن پر دستخط کر کے اور امریکہ سے دستخط کروا کے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ غیرت مند قومیں،اپنی قومی زبان و ثقافت کا تحفظ و دفاع کیسے کرتی ہیں۔
یہ امن معاہدہ ہمارے لیے ایک مثال ہے اور ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم اپنی قومی زبان سے روارکھی گئی نا انصافی پر نظرِ ثانی کریں۔
