Baaghi TV

آبادی، پاکستان کا بڑا چیلنج،تحریر:صدف ابرار

پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے ایک اہم قوت بھی بن سکتی ہے اور ایک سنگین بحران بھی۔ اگر اس آبادی کو معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہی نوجوان نسل پاکستان کی ترقی کا انجن ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر منصوبہ بندی نہ کی جائے تو یہی آبادی معیشت، قدرتی وسائل اور سماجی ڈھانچے پر ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق 2026 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 93 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کی یہی رفتار اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ پاکستان آنے والے برسوں میں آبادی کے حوالے سے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوگا۔

سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 69 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ 19 ہزار سے زائد بچے اس دنیا میں آتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہر گھنٹے تقریباً 790 اور ہر منٹ 13 سے زیادہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کا مطلب صرف آبادی میں اضافہ نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہر روز ہزاروں نئے شہریوں کے لیے خوراک، صاف پانی، رہائش، تعلیم، صحت اور روزگار کا بندوبست کرنا ریاست کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی معیشت اس رفتار سے ترقی نہیں کر رہی جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کمزور صنعتی ترقی، قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور محدود مالی وسائل پہلے ہی ملکی معیشت کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں جب ہر سال لاکھوں نئے افراد روزگار کی منڈی میں شامل ہوتے ہیں تو معیشت کے لیے اتنی بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ملک میں بے روزگاری، غربت اور معاشی عدم مساوات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دوسری جانب تعلیمی اور طبی سہولیات بھی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔ لاکھوں بچے آج بھی معیاری تعلیم سے محروم ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کا غیر معمولی دباؤ صحت کے نظام کی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے۔

اگرچہ پاکستان کی نوجوان آبادی کو اکثر ایک "ڈیموگرافک ڈویڈنڈ” قرار دیا جاتا ہے، لیکن یہ فائدہ اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب حکومت تعلیم، ہنر مندی، صحت اور روزگار میں مؤثر سرمایہ کاری کرے۔ بصورتِ دیگر یہی نوجوان آبادی بے روزگاری، غربت اور سماجی بے چینی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی محض ایک عددی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ملک کی معیشت، ماحول، وسائل اور مستقبل سے جڑا ہوا ایک قومی چیلنج ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں خوراک، پانی، توانائی، رہائش اور روزگار کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس لیے آبادی میں توازن پیدا کرنا، انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرنا اور پائیدار ترقی کو قومی ترجیح بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

More posts