"یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَحِلُّ لَكُمُ النِّسَاءَ كَرْهًا”
"اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔”(سورۃ النساء: 19) اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عورت کی رضا مندی کے بغیر اس پر کسی قسم کا جبری فیصلہ مسلط کرنا اسلام میں بالکل بھی جائز نہیں ہے۔ اسی طرح حدیث نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطابق کنواری، بیوہ یا مطلقہ سے ان کی مرضی پوچھے بغیر نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بیوہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس کی رضا مندی کے بغیر نہ کیا جائے۔ صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کنواری لڑکی کیسے اجازت دے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اس کا خاموش رہ جانا ہی اس کی اجازت ہے۔”(صحیح بخاری: 5136، صحیح مسلم: 1419)
دور نبوی میں اگر والدین یا ولی لڑکی کی مرضی کے خلاف زبردستی نکاح کروا دیتے تو اسلام عورت کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اس نکاح کو ختم (منسوخ) کروا دے۔ خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح ان کی مرضی کے خلاف کر دیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی، تو آپ ﷺ نے اس نکاح کو رد (منسوخ) فرما دیا۔ (صحیح بخاری: 5138) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دوشیزہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی ناگواری کے باوجود کر دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہے تو اس نکاح کو برقرار رکھے یا ختم کر دے۔(سنن ابوداؤد: 2096، سنن ابن ماجہ: 1875) جب اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ اس نے آپ ﷺ کے پاس جا کر یہ قدم کیوں اٹھایا؟ تو اس نے تاریخی جواب دیا: "میں اپنے والد کے فیصلے کو نافذ رکھنا چاہتی تھی، لیکن میں عورتوں کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ نکاح کے معاملے میں ان کے باپ دادا کو (زبردستی کا) کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 1874)
دین اسلام کے مطابق ایک عاقل اور بالغ لڑکی کو اپنی مرضی سے جیون ساتھی چننے اور نکاح کا مکمل حق حاصل ہے۔ اگر کوئی معاشرتی یا خاندانی رسم و رواج عورت کو اس کے شرعی حق اور پسند سے محروم کرتا ہے، تو وہ اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔ شریعت کے مطابق والدین، سرپرست یا ولی کو نصیحت اور مشورے کا حق تو حاصل ہے لیکن اپنی مرضی ٹھونسنے یا زبردستی نکاح کروانے کا بالکل بھی حق حاصل نہیں ہے۔ قرآن و حدیث میں عورت کی رضامندی اور مرضی کو نکاح کے لیے بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے اور زبردستی کی شادی کو باطل اور قابل منسوخ ٹھہرایا گیا ہے۔ اپنی پسند کا نکاح کرنے کا اختیار ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے تو پھر آج معاشرے کو کیا مسلہ ہے کہ لڑکی سے یہ حق چھیننے میں سب اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ شادی ایک ذمہ داری ہے ایک ایسا بندھن جو نا صرف ایک خاندان بلکہ ایک معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جن دو افراد کا ساتھ زندگی بھر کا ہوتا ہے ان کے علاؤہ باقی سارا خاندان ایک دوسرے کو ملتا ہے اور دعوتیں بھی اڑاتا ہے بس پردہ ہوتا تو ان دونوں فریقوں کے درمیان۔ سب خاندان والے ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے ہیں ماسوائے ان دو افراد کے کہ جنہوں نے ساری زندگی اکھٹے گزارنی ہوتی ہے۔ سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں سوائے دلھا دلھن کے بس وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے شادی ٹوٹنے سے بہتر منگنی اور رشتے کا ٹوٹ جانا ہے۔ خدارا اب تو زمانہ جاہلیت سے باہر آ جائیں اور جو حق عورت کو رب نے دیا ہے وہ اسے چیخ چیخ کر اس معاشرے سے کیوں مانگنا پڑ رہا ہے۔ جو حق رب العزت نے دیا ہے اس حق کو عورت کو استعمال کرنے دیں۔ وہ گرے گی، سنبھلے گی، ہمت کرے گی اور پھر اٹھے گی۔ اسے خود تجربے کی بھٹی میں جلنے دیں۔ اسے اپنی مرضی سے جینے دیں۔ وہ بھی انسان ہے اسے بھی انسان سمجھیں۔
جیو اور جینے دو اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔
