Baaghi TV

"سوزشِ زمین اور ہمارا مستقبل”،تحریر:قرۃالعین خالد

دور حاضر میں پاکستان جن بڑے بڑے چیلنجز کی زد میں ہے، ان میں سے سب سے خاموش لیکن سب سے زیادہ تباہ کن چیلنج موسمیاتی تبدیلی ہے۔ کبھی بن موسم کے شدید بارشیں اور بادل پھٹنے کے واقعات، کبھی خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں، گلیشیرز کا تیزی سے پگھلنا اور موسمِ سرما میں شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی بدترین سموگ۔ یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ ہمارا ماحول اب معمول کے مطابق نہیں رہا۔ پاکستان کا عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
اکثر و بیشتر ہمارے ملک میں شدید سیلاب یا قحط کو صرف ایک آسمانی آفت کہہ کر ساری ذمہ داری قدرت پر ڈال دینے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ حقیقتاً قدرتی عوامل سے انکار ممکن نہیں، لیکن سائنسی اور حقیقی نقطہ نظر سے اس تباہی میں بڑا قصور خود ہمارا ہے۔ دن بدن جنگل کٹتے جا رہے ہیں۔ عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ درختوں کا قتل عام جاری ہے اور درختوں کے قبرستانوں پر انسان اپنے خوابوں کے محل تعمیر کر رہے ہیں۔درخت! جو ہماری زمین کے پھیپھڑے ہیں اور سیلابی بہاؤ کو روکنے کی سب سے پہلی ڈھال ہیں۔ ہم نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور لکڑی کی ہوس میں جنگلات کا بے دردی سے صفایا کر دیا۔ ندی نالوں کے قدرتی راستوں پر تعمیرات اور نکاسیِ آب کے ناقص نظام نے معمولی بارش کو بھی تباہ کن سیلاب میں بدل دیا ہے۔ شہروں میں نالوں کو ڈھکا نہیں گیا اور ذرا سی بارش سے وہ نالے اپنے فضلے کے ساتھ سڑک پر ابل پڑتے ہیں۔ پلاسٹک کا بے دریغ استعمال، گاڑیوں اور فیکٹریوں کا زہریلا دھواں، اور پانی کے ضیاء نے ماحول کے توازن کو بری طرح بگاڑ دیا ہے۔ یہ تمام عوامل بتاتے ہیں کہ آفت اگر آسمان سے نازک صورت میں آتی ہے تو ہم اپنے ہاتھوں سے اسے ایک ہولناک تباہی کا روپ دے دیتے ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہم کیا کریں؟ کیا کوئی خدائی فوج ہماری مدد کو آئے گی؟ یا ہم کسی معجزے کے انتظار میں ہیں؟ یاد رکھیے اس دنیا میں ہم اکیلے ہی آئے تھے اور اکیلے ہی جائیں گے تو یہاں جو کرنا ہے بغیر کسی مدد کے اکیلے ہی کرنا ہے۔ بحثیت ذمہ دار شہری ہمارا فرض ہے کہ ہم حکومت یا امدادی اداروں کا انتظار کیے بغیر اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔ ہر شخص سالانہ کم از کم دو درخت لگائے اور ان کی پرورش کرے۔ اپنے گھروں اور گلیوں میں سبزے کو فروغ دیں۔ پانی کے بے جا ضیاع کو روکیں۔ نلکے کھلے نہ چھوڑیں اور بجلی کی بچت کے لیے توانائی بچانے والے آلات استعمال کریں۔ پلاسٹک جو کہ ایک خاموش قاتل کی طرح ہماری زندگیوں میں موجود ہے اس سے بچیں اور کپڑے یا جوٹ کے تھیلے استعمال کریں۔ کچرا گلیوں یا ندی نالوں میں پھینکنے کے بجائے متعین جگہوں پر ڈالیں اور فضلہ جلانے سے پرہیز کریں تاکہ سموگ میں اضافہ نہ ہو۔ حکومتی طور پر دیکھا جائے تو وہ رعایا کی جان و مال کی محافظ ہوتی ہے لہذاموسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر ہنگامی اور جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

تمام حساس علاقوں میں جدید ترین سنسرز اور الرٹ سسٹم نصب کیے جائیں تاکہ سیلاب یا گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پہلے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی لگانی چاہیے اور مؤثر قوانین نافذ کیے جانے چاہیے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینی چاہیے۔ قومی سطح پر جنگلات کی بحالی کی مہمات کو صرف کاغذوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عمل میں لایا جائے۔ کوئلے اور تیل پر انحصار کم کر کے شمسی، ہوائی اور پن بجلی جیسے ماحول دوست ذرائع پر منتقل ہوا جائے۔ اس کے علاؤہ غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کیا جائے اور شہروں میں پانی کی نکاسی کے نظام کو جديد خطوط پر استوار کیا جائے۔ عالمی فورمز پر پاکستان کی مؤثر نمائندگی کی جائے تاکہ آلودگی پھیلانے والے بڑے صنعتی ممالک سے کلائمیٹ فنڈ اور نقصان و تلافی فنڈ حاصل کیے جا سکیں۔

یاد رکھیے ۔۔۔۔۔یہ لمحہ فکریہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب آنے والے وقتوں کے لیے نا صرف خطرہ ہے بلکہ آج کا تلخ سچ بھی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی روایتی غفلت کا مظاہرہ کیا تو ہماری آنے والی نسلوں کو ایک بنجر اور غیر محفوظ زمین ملے گی۔ یہ وقت الزامات تراشی کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی، ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اور ٹھوس حکومتی اقدامات کرنے کا ہے۔ زمین ہمارا واحد گھر ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اب اس طرز عمل سے نکلنے کا وقت ہے کہ کوئی کیا کر رہا ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ یاد رکھیے جو دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں تقسیم کرتے ہیں رب العزت ان کی زندگی کو آسان کر دیتے ہیں۔ درخت لگائیے اپنے جینے کے لیے اور اپنوں کی زندگی کے لیے۔

More posts