کبھی کبھی انسان اپنی زندگی میں کچھ راستے خود منتخب نہیں کرتا، راستے خود اسے منتخب کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتا رہتا ہے کہ وہ کہیں جا رہا ہے، مگر برسوں بعد پیچھے مڑ کر دیکھے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر موڑ، ہر ٹھوکر، ہر خاموشی اور ہر بچھڑنا اسے ایک ہی سمت لے جا رہا تھا۔ شاید میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
میں نے کبھی بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ مجھے لکھاری بننا ہے۔ نہ کبھی یہ سوچا تھا کہ ایک دن میرے نام کے ساتھ شاعرہ یا کالم نگار لکھا جائے گا۔ بس بچپن سے مجھے لفظوں کے ساتھ ایک عجیب سی نسبت محسوس ہوتی تھی۔ کچھ لوگ اپنے دکھ کسی انسان سے کہتے ہیں، کچھ دعاؤں میں رکھ دیتے ہیں، اور کچھ انہیں کاغذ پر اتار دیتے ہیں۔ میں شاید انہی لوگوں میں سے تھی جو اپنے اندر کے شور کو خاموش کرنے کے لیے لفظوں کا سہارا لیتے ہیں۔
بچپن میں جب بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں،تب کتابیں سمجھ آتی تھیں۔ جب بہت سے سوالوں کا جواب کسی انسان کے پاس نہیں ہوتا تھا، میں کتابوں کے صفحات میں انہیں تلاش کرتی تھی۔ شاید اسی لیے کتاب میرے لیے کبھی محض کتاب نہیں رہی؛ وہ ایک دروازہ رہی ہے، ایسا دروازہ جو باہر کی دنیا سے زیادہ انسان کو اس کے اپنے اندر لے جاتا ہے۔
میرا نام زینب جہانزیب ہے اور میرا تعلق واہ کینٹ سے ہے۔ آج میں بطور شاعرہ اور کالم نگار اپنے ادبی سفر کو آگے بڑھا رہی ہوں، لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ یہ سفر کہاں سے شروع ہوا تھا تو میں کسی اخبار یا ادبی پلیٹ فارم کا نام نہیں لوں گی۔ میں شاید اپنی والدہ کی کتابوں کی الماری کی طرف اشارہ کروں گی۔
میری فکری تشکیل میں میری والدہ کا کردار بہت گہرا رہا ہے۔ ان کی دین سے وابستگی نے میرے اندر بھی مذہب، روحانیت اور علم کے لیے ایک ایسی کشش پیدا کی جس نے وقت کے ساتھ میری پوری شخصیت کو متاثر کیا۔ میری عمر تقریباً بارہ برس تھی جب میں اپنی والدہ کی ڈھائی سو سے زائد اسلامی کتب پڑھ چکی تھی۔ اُس عمر میں شاید مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ میں کیا تلاش کر رہی ہوں، مگر آج سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنی اصل تلاش بہت پہلے شروع کر دیتا ہے، صرف اسے اس تلاش کا نام بہت بعد میں سمجھ آتا ہے۔
کبھی میرے دل میں بھی کچھ خواب تھے، کچھ منزلیں تھیں، کچھ ارادے تھے۔ مگر زندگی ہمیشہ انسان کو اُس راستے پر نہیں لے جاتی جو وہ اپنے لیے چنتا ہے۔ شاید ہم اپنی زندگی کے نقشے بناتے ہیں، مگر اوپر کہیں ایک اور قلم ہماری سمت لکھ رہا ہوتا ہے۔ راستہ بدلا، مگر میری تلاش نہیں بدلی۔ دین، انسان اور اس کے باطن کو سمجھنے کی خواہش کہیں اندر موجود رہی، اور یہی دلچسپی مجھے نفسیات کی طرف لے گئی۔
نفسیات میرے لیے صرف ایک تعلیمی مضمون نہیں تھی۔ اس نے مجھے انسان کو دیکھنے کا ایک نیا طریقہ دیا۔ میں نے سمجھا کہ ہر مسکراہٹ خوشی نہیں ہوتی، ہر خاموشی سکون نہیں ہوتی اور ہر سخت رویے کے پیچھے سخت دل نہیں ہوتا۔ کبھی ایک انسان اپنے اندر ایسی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے جس کی خبر اس کے قریب ترین لوگوں کو بھی نہیں ہوتی۔
شاید یہیں سے انسان میرے لیے ایک موضوع نہیں، ایک سوال بن گیا۔
مجھے آج بھی لوگوں کے الفاظ سے زیادہ ان کے درمیان موجود خاموشی متوجہ کرتی ہے۔ کوئی شخص کیا کہہ رہا ہے، یہ اہم ہے؛ مگر وہ کیا نہیں کہہ پا رہا، شاید یہ اُس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ مجھے چہروں سے زیادہ چہروں کے پیچھے چھپی کہانیاں دلچسپ لگتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میری تحریروں میں انسان بار بار لوٹ کر آتا ہے؛ کبھی اپنی شکست کے ساتھ، کبھی اپنی انا کے ساتھ، کبھی محبت کے ساتھ اور کبھی اُس سوال کے ساتھ جس کا جواب اسے برسوں سے نہیں ملا۔
میری لکھنے کی ابتدا بھی شاید اسی خاموشی سے ہوئی۔ اسکول کے زمانے میں چھوٹی چھوٹی نظمیں لکھتی تھی۔ جو بات زبان سے نہیں کہہ پاتی، وہ کاغذ پر لکھ دیتی۔ کالج تک پہنچتے پہنچتے اس شوق کو میرے اساتذہ کی حوصلہ افزائی بھی ملنے لگی۔ ادبی مقابلوں میں حصہ لیا، کامیابیاں حاصل کیں اور میرے افسانے کالج کے سالانہ کرونیکلز میں شائع ہوئے۔
اُس وقت یہ سب چھوٹی چھوٹی خوشیاں تھیں۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو لگتا ہے، شاید زندگی اُس وقت ہی میرے ہاتھ میں قلم رکھ رہی تھی، بس مجھے اس کا احساس نہیں تھا۔
پھر ایک وقت آیا جب قلم خاموش ہو گیا۔ اور شاید صرف قلم ہی نہیں، میں بھی۔
زندگی کے کچھ موسم انسان سے بہت کچھ چھین لیتے ہیں۔ کبھی وقت، کبھی لوگ، کبھی یقین، اور کبھی انسان کو خود اپنا آپ اجنبی لگنے لگتا ہے۔ میرے حصے میں بھی ایک ایسا دور آیا جس نے مجھے اندر سے بدل دیا۔ کچھ تجربات انسان کو توڑتے نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود بہت سے جھوٹ توڑ دیتے ہیں۔ وہ چہرے اتار دیتے ہیں جو ہم نے دنیا کو دکھانے کے لیے نہیں، خود کو یقین دلانے کے لیے پہن رکھے ہوتے ہیں۔
مگر شاید ہر اندھیرا صرف راستہ روکنے نہیں آتا۔ کچھ اندھیرے انسان کو پہلی بار روشنی کی ضرورت کا احساس بھی دلاتے ہیں۔
میں نے اسی دور میں اپنے اندر واپس جانا شروع کیا۔ خاموشی سے بھاگنے کے بجائے اسے سننا شروع کیا۔ خود سے سوال کیے۔ کچھ کے جواب ملے، کچھ سوال اور گہرے ہو گئے۔ اور پھر ایک عجیب بات ہوئی؛ میں نے محسوس کیا کہ جس ذات سے میں اتنا دور بھاگ رہی تھی، شاید وہیں واپس جانے کا راستہ میرے اپنے اندر سے نکلتا ہے۔
یہیں سے میرے لکھنے کا دوسرا سفر شروع ہوا۔
اب میں صرف واقعات نہیں لکھنا چاہتی تھی؛ میں ان کے پیچھے چھپی ہوئی کیفیت لکھنا چاہتی تھی۔ صرف دکھ نہیں، دکھ کے بعد انسان کے اندر ہونے والی تبدیلی لکھنا چاہتی تھی۔ صرف محبت نہیں، محبت کے بعد انسان کے اندر پیدا ہونے والی معرفت لکھنا چاہتی تھی۔ صرف تنہائی نہیں، اُس تنہائی میں انسان کی اپنے رب سے ہونے والی ملاقات لکھنا چاہتی تھی۔
اور پھر ایک دن ایسا آیا جب مجھے لگا کہ یہ لفظ میرے نہیں رہے۔
وہ مجھ سے لکھے جانے لگے۔
یوں میری پہلی کتاب وجود میں آئی "آئینہ، روشنی اور فنا کا سفر”۔
یہ کتاب میرے لیے صرف صفحات پر جمع کیے ہوئے الفاظ نہیں، بلکہ میرے اندر سے گزرنے والے ایک طویل سفر کی گواہی ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں انسان پہلے خود کو دیکھتا ہے، پھر اپنے اندر کے اندھیروں سے ملتا ہے، پھر کسی روشنی کی تلاش میں نکلتا ہے اور آخرکار اسے احساس ہوتا ہے کہ جس روشنی کو وہ باہر تلاش کر رہا تھا، اس کی ایک کرن ہمیشہ اس کے اندر موجود تھی۔
میرے لیے آئینہ صرف چہرہ دیکھنے کا نام نہیں۔ آئینہ وہ لمحہ ہے جب انسان پہلی بار اپنے سامنے کھڑا ہو کر خود سے نظریں ملانے کی ہمت کرتا ہے اور پوچھتا ہے: میں آخر ہوں کون؟
پھر آتی ہے روشنی۔ وہ روشنی جو آنکھوں کو نہیں، باطن کو روشن کرتی ہے۔ جو انسان کو دوسروں کی خامیاں دکھانے سے پہلے اپنی تاریکیاں دکھاتی ہے۔ جو اسے یہ سمجھاتی ہے کہ کبھی کبھی سب سے بڑا اندھیرا باہر نہیں، انسان کے اپنے اندر ہوتا ہے۔
اور پھر فنا۔ میرے نزدیک فنا مٹ جانے کا نام نہیں۔ فنا اُس خود ساختہ ذات سے گزرنے کا نام ہے جسے ہم برسوں سے اپنا اصل سمجھتے آئے ہیں۔ انا سے گزرنا، غرور سے گزرنا، اپنی خواہشوں کے شور سے آگے نکلنا اور اُس "میں” سے آزاد ہونا جو ہر چیز کو اپنی ملکیت سمجھتی ہے۔
اسی لیے یہ کتاب نہ ناول ہے، نہ محض شاعری کا مجموعہ اور نہ روایتی مضامین کی کتاب۔ اس میں انسانی زندگی، روحانیت، تصوف، نفسیات، محبت، خود شناسی، باطن اور انسان کے اندر چلنے والی مختلف کیفیات کو نثر میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پھر ہر مضمون کے بعد اسی خیال یا کیفیت کو ایک غزل کے ذریعے محسوس کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔
یعنی جہاں نثر انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے، وہاں غزل اسی خیال کو محسوس کروانے کی کوشش کرتی ہے۔ ایک ہی احساس، دو مختلف زبانوں میں۔
میری شاعری بھی میرے لیے صرف شاعری نہیں۔ میں شعر میں صرف محبت کی داستان یا جذبات کی شدت بیان نہیں کرنا چاہتی۔ مجھے وہ لمحہ زیادہ دلچسپ لگتا ہے جب محبت انسان کو خود اُس کی حقیقت تک لے جائے، جب تنہائی شکایت نہیں، معرفت بن جائے، جب درد صرف رونے کی وجہ نہ رہے بلکہ انسان کو اپنے رب کے قریب لے جائے، اور جب انسان کسی دوسرے کو کھوتے کھوتے خود کو پا لے۔
میرے کالم بھی اسی تلاش کا ایک اور رخ ہیں۔ میں کسی واقعے کو صرف واقعہ سمجھ کر نہیں لکھ پاتی۔ میرے لیے ہر واقعے کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے، اور ہر انسان کے پیچھے ایک کہانی۔ اسی لیے وقت کے ساتھ میرے قلم کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ تصوف اور باطن سے نکل کر میں نے سماجی مسائل، انسانی رویوں، حکومتی و عوامی معاملات اور عام انسان کے سوالات پر بھی لکھنا شروع کیا، کیونکہ میرے نزدیک قلم صرف اپنے اندر کی دنیا کا ترجمان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر معاشرے میں کوئی آواز دب رہی ہو تو قلم کو وہاں بھی سنائی دینا چاہیے۔
آج میں بطور شاعرہ اور کالم نگار اپنے ادبی سفر کو آگے بڑھا رہی ہوں۔ میری تحریریں مختلف اخبارات اور ادبی پلیٹ فارمز پر شائع ہوتی رہی ہیں، اور اس سفر میں ملنے والی پذیرائی میرے لیے حوصلے کا باعث رہی ہے۔ ادبی مقابلوں میں شرکت اور کامیابیاں بھی اس سفر کا حصہ رہی ہیں، مگر میرے لیے سب سے بڑا اعزاز کوئی ٹرافی، سرٹیفکیٹ یا شہرت نہیں۔
میرے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ لمحہ ہے جب کوئی اجنبی قاری مجھے کہتا ہے: "آپ نے جو لکھا، وہ جیسے میرے دل کی بات تھی۔” تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید میرے لفظ اپنی منزل تک پہنچ گئے۔
میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ کسی ایسے شخص تک پہنچیں جو شاید اپنی زندگی کے مشکل دن سے گزر رہا ہو۔ کوئی ایسا دل جو ٹوٹنے کے بعد یہ سمجھ بیٹھا ہو کہ اب کچھ باقی نہیں رہا، یا کوئی ایسا شخص جو اپنے رب سے دور ہو کر بھی اندر سے اسی کو تلاش کر رہا ہو۔
اگر میرا ایک لفظ اسے روک دے، ایک جملہ اسے سوچنے پر مجبور کر دے، ایک تحریر اسے اپنے آپ سے دوبارہ ملنے کا حوصلہ دے دے، یا ایک غزل اسے یہ احساس دلا دے کہ اس کے اندر ابھی روشنی باقی ہے، تو میرے لیے یہی کافی ہے۔
میں نے زندگی سے ایک بات سیکھی ہے:
انسان ہمیشہ ٹوٹ کر ختم نہیں ہوتا، بعض اوقات ٹوٹنے کے بعد پہلی بار اپنی اصل شکل میں آتا ہے۔
شاید اسی لیے میں اپنے آپ کو آج بھی مکمل لکھاری نہیں سمجھتی۔ میں اب بھی ایک مسافر ہوں۔ اب بھی پڑھ رہی ہوں، سیکھ رہی ہوں، لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں اور اپنے اندر کے سوالوں کے ساتھ چل رہی ہوں۔
میرا ماننا ہے کہ لکھاری وہ نہیں جو ہر سوال کا جواب جانتا ہو۔ شاید لکھاری وہ ہے جو اپنے لفظوں سے کسی دوسرے انسان کے اندر وہ سوال جگا دے جسے وہ برسوں سے دفن کیے بیٹھا تھا۔ کیونکہ کبھی کبھی جواب دینے سے زیادہ ضروری سوال پیدا کرنا ہوتا ہے۔
اور شاید میری پوری تحریری زندگی بھی اسی ایک سوال کے گرد گھومتی ہے:
ہم دنیا کو سمجھنے میں اتنے مصروف کیوں ہیں کہ خود کو سمجھنا بھول گئے؟
شاید "آئینہ، روشنی اور فنا کا سفر” بھی اسی سوال کا ایک طویل جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے۔
ایک ایسا سفر جس میں میں نے پہلے خود کو آئینے میں دیکھا، پھر اپنے اندر کے اندھیروں سے ملی، پھر روشنی کی تلاش کی، اور آخرکار یہ سمجھنے لگی کہ انسان کی سب سے بڑی منزل شاید خود کو پانا نہیں، بلکہ اُس "خود” سے گزر جانا ہے جسے وہ اپنی حقیقت سمجھتا رہا۔
اور شاید اسی لیے میں آج بھی لکھتی ہوں۔
کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کہی نہ جائیں تو دل پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کسی کو بتا نہیں سکتا۔ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب کتابوں میں نہیں ملتا، اور کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر انسان کو اکیلا چلنا پڑتا ہے۔
میں انہی باتوں، انہی احساسات، انہی سوالوں اور انہی راستوں کو لفظ دیتی ہوں۔
میں لکھتی ہوں کیونکہ میں نے خاموشی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میں لکھتی ہوں کیونکہ میں نے خود کو کھونے کے بعد دوبارہ تلاش کرنے کا سفر دیکھا ہے۔ میں لکھتی ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ایک لفظ کبھی کبھی وہ کام کر دیتا ہے جو ایک پوری گفتگو نہیں کر پاتی۔
اور شاید سب سے بڑھ کر—
میں لکھتی ہوں کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ میرے لفظ کسی ایسے دل تک پہنچ جائیں جہاں میری آواز کبھی نہ پہنچ سکے۔
اگر میرا کوئی لفظ کسی انسان کو اپنے رب کے قریب کر دے، کسی ٹوٹے ہوئے دل میں امید جگا دے، کسی بھٹکے ہوئے شخص کو اپنے راستے پر واپس لے آئے، یا کسی کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دے، تو شاید میرے لکھنے کا مقصد پورا ہو گیا۔
باقی نام، اعزاز، شہرت، شائع ہونے والی تحریریں اور کتابیں تو اس سفر کے پڑاؤ ہیں۔
اصل سفر شاید وہ ہے جو لفظ پڑھنے کے بعد کسی انسان کے اندر شروع ہوتا ہے۔
اور اگر کبھی کوئی مجھ سے پوچھے
زینب جہانزیب آخر لکھتی کیوں ہے؟
تو شاید میں اس بار کوئی لمبا جواب نہ دوں۔
صرف اتنا کہوں:
میں لکھتی ہوں تاکہ خاموشی لفظ بن سکے،
لفظ روشنی بن سکے،
اور روشنی کسی ایک انسان کو اس کے اپنے اندر تک لے جا سکے۔
یہی میرا سفر ہے۔
خاموشی سے لفظوں تک۔
لفظوں سے روشنی تک۔
اور شاید روشنی سے فنا تک۔
باقی جو کچھ ہوں،
شاید وہ میری تحریروں کے درمیان
کہیں خاموش بیٹھا ہے۔

