Baaghi TV

میرا تعارف، مبراء عبدالقیوم

ادب صرف لفظوں کا ہنر نہیں، بلکہ یہ دل کی آواز ہوتی ہے۔ اور میں اسی آواز کی ہم سفر ہوں۔
میرا نام مبراء عبدالقیوم ہے۔میرا تعلق فیصل آباد کے شہر ڈجکوٹ سے ہے۔ میں نے آنکھ کھولی تو لفظوں کو اپنے اردگرد بکھرا پایا۔ اور جب شعور آیا تو احساس ہوا کہ لکھنا میرے لیے شوق نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ تعلیم کے سفر کے ساتھ ساتھ ادب نے بھی میرا ہاتھ تھامے رکھا۔ کبھی کتابوں کی صورت، کبھی خیالوں کی شکل میں۔ ادب سے محبت کسی ایک دن میں نہیں ہوئی، یہ تو رفتہ رفتہ میرے دل میں اتری۔ یہ شوق مجھے میرے امی جان اور پھر جماعت اسلامی میں شمولیت سے بھی ہوا۔ پھر کہانیاں اور کتابیں پڑھتے پڑھتے، لفظوں میں خود کو پہچانتے پہچانتے ہی لکھنے کا آغاز میں نے اپنے احساسات کو سمجھنے کے لیے کیا۔ اور پھر یہ احساسات لفظ بن کر کاغذ پر اترنے لگے۔ میں سمجھتی ہوں کہ تحریر وہ آئینہ ہے جس میں لکھنے والا خود کو بھی دیکھتا ہے اور دوسروں کو بھی دکھاتا ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میری تحریر دل سے نکلے اور دل تک پہنچے۔

وقت کے ساتھ ساتھ میرے لکھنے کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ ابتدا میں جو باتیں صرف میرے دل اور کاغذ کے درمیان رہتی تھیں، وہ آہستہ آہستہ دوسروں تک پہنچنے لگیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ لفظ صرف اپنے احساسات بیان کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی کے دل کو چھونے، کسی سوچ کو بدلنے اور کسی کے لیے امید بننے کا وسیلہ بھی بن سکتے ہیں۔

گزشتہ ڈیڑھ برس سے میں باقاعدگی کے ساتھ لکھ رہی ہوں۔ اس دوران مختلف ادبی گروپس، رسائل اور ادبی سرگرمیوں سے وابستہ رہنے کا موقع ملا۔ افسانہ، افسانچہ، مضمون، کالم، نثری نظم، شاعری اور خطوط سمیت مختلف اصناف میں لکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ہر صنف مجھے اظہار کا ایک نیا راستہ دکھاتی ہے اور ہر تحریر مجھے خود اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔

میری تحریروں میں عموماً انسانی جذبات، رشتے، معاشرتی مسائل، زندگی کی حقیقتیں اور اصلاحی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ میں مشکل الفاظ اور بناوٹ کے بجائے سادہ اور دل سے نکلنے والی زبان کو پسند کرتی ہوں۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ خوبصورت تحریر وہ نہیں جو صرف پڑھی جائے، بلکہ وہ ہے جو پڑھنے والے کے دل میں کچھ دیر کے لیے ٹھہر جائے۔

میرے لیے لکھنا محض اپنی پہچان بنانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ کسی کے لیے تسلی بنیں، کسی کو سوچنے پر مجبور کریں، کسی کے اندر امید جگائیں اور جہاں ممکن ہو، معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی کا سبب بنیں۔
ادبی سفر میں ابھی میں خود کو ایک طالبِ علم ہی سمجھتی ہوں۔ ہر نئی تحریر، ہر نیا موضوع اور ہر نیا تجربہ مجھے کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ میں اپنے لفظوں کو بہتر بنانے، اپنی خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندازِ بیان کو مزید نکھارنے کی کوشش میں رہتی ہوں، کیونکہ میرے نزدیک سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا ہے۔
میری خواہش ہے کہ آنے والے وقت میں بھی میں اسی محبت اور اخلاص کے ساتھ لکھتی رہوں۔ اپنے قلم کو مثبت سوچ اور خوبصورت احساسات کے اظہار کا ذریعہ بناؤں اور ادب کی دنیا میں اپنی ایک ایسی پہچان قائم کروں جو میرے الفاظ سے زیادہ میرے احساس اور مقصد سے پہچانی جائے۔
یہی میرا سفرِ قلم ہے؛ ایک ایسا سفر جو ابھی جاری ہے، اور جس کی منزل سے زیادہ مجھے اس کے راستے سے محبت ہے۔

More posts