Baaghi TV

جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس،تحریر: کاشف خان

ہمارے معاشرے میں صدیوں سے ایک کہاوت مشہور ہے: "جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس۔” چند الفاظ پر مشتمل یہ کہاوت دراصل ہمارے سماجی نظام کی ایک تلخ حقیقت کو بیان کرتی ہے۔ جہاں طاقتور اپنی طاقت کے بل بوتے پر فیصلے کرواتا ہے اور کمزور اپنے حق کے باوجود انصاف کے دروازے پر کھڑا رہتا ہے۔

یہ کہاوت صرف دیہاتی زندگی یا مویشیوں کے جھگڑے تک محدود نہیں، بلکہ آج کے معاشرے میں اس کے کئی روپ نظر آتے ہیں۔ کہیں دولت طاقت بن جاتی ہے، کہیں عہدہ، کہیں سیاسی اثر و رسوخ، کہیں تعلقات اور کہیں صرف یہ یقین کہ کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جب طاقت قانون سے بالاتر محسوس ہونے لگے تو پھر حق اور باطل کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔

ایک غریب آدمی سارا دن محنت کرتا ہے، اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتا ہے اور اپنی محنت کا جائز معاوضہ مانگتا ہے۔ لیکن اگر اس کے مقابل کوئی بااثر شخص کھڑا ہو جائے تو اکثر غریب کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس نہ سفارش ہے، نہ وسائل اور نہ ہی طاقتور لوگوں تک رسائی۔ چنانچہ وہ اپنے حق سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اسی طرح ہمارے اردگرد ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں کسی کمزور کی زمین، دکان، ملازمت یا حق پر طاقتور نظریں جما لیتا ہے۔ کمزور شخص قانون سے رجوع کرتا ہے، درخواستیں دیتا ہے، دفاتر کے چکر لگاتا ہے، لیکن انصاف کا سفر اتنا طویل ہو جاتا ہے کہ بعض اوقات وہ تھک کر خاموش ہو جاتا ہے۔

یہ صورت حال صرف کمزور فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کیونکہ جب لوگوں کا قانون اور انصاف پر اعتماد کم ہونے لگے تو معاشرے میں مایوسی، بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔

ایک ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیار، خزانے یا بڑے بڑے ادارے نہیں ہوتے، بلکہ اس کا انصاف کا نظام ہوتا ہے۔ اگر ایک عام شہری کو یقین ہو کہ اس کی بات بھی سنی جائے گی اور طاقتور کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا تو معاشرے میں امن پیدا ہوتا ہے۔

ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ طاقتور ہونا حق دار ہونے کی علامت ہے۔ طاقت انسان کو اختیار دے سکتی ہے، مگر حق نہیں دیتی۔ حق دلیل، قانون، انصاف اور سچائی سے پیدا ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے ہم بعض اوقات خود بھی اس رویے کو فروغ دیتے ہیں۔ جب کوئی بااثر شخص غلط کام کرے تو ہم خاموش رہتے ہیں، لیکن وہی کام کوئی کمزور شخص کرے تو اسے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ہمیں اپنے اس دوہرے معیار کو ختم کرنا ہوگا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ "جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس” کے بجائے ہمارے معاشرے کا اصول "جس کا حق، اُسے حق” ہونا چاہیے۔ قانون کی نظر میں امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور، عہدے دار اور عام شہری سب برابر ہوں۔

یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت ہمیشہ ایک شخص کے پاس نہیں رہتی۔ وقت بدلتا ہے، عہدے بدلتے ہیں، حالات بدلتے ہیں۔ جو آج طاقتور ہے، ممکن ہے کل اسے بھی کسی ایسے انصاف کی ضرورت پڑ جائے جو آج وہ کسی کمزور کو دینے سے انکار کر رہا ہے۔

اس لیے طاقت کے نشے کے بجائے انصاف کی طاقت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کیونکہ لاٹھی کے زور پر حاصل کیا گیا اختیار وقتی ہو سکتا ہے، مگر انصاف کی بنیاد پر قائم معاشرہ نسلوں تک قائم رہتا ہے۔

آخرکار بھینس اُس کی نہیں ہونی چاہیے جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو، بلکہ اُس کی ہونی چاہیے جس کا حق ہو۔ یہی ایک مہذب، مضبوط اور انصاف پسند معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

More posts