لاہور کے علاقے اچھرہ میں واقع ایک ٹیوشن سینٹر میں 10 سالہ بچی نعیمہ کی پراسرار ہلاکت کے واقعے پر پولیس نے والد محمد عدنان کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق 10 سالہ نعیمہ اپنی دو بہنوں کے ہمراہ دوپہر تقریباً ایک بجے ٹیوشن پڑھنے گئی تھی۔ کچھ دیر بعد ٹیوشن سینٹر چلانے والی ٹیچر کے والد عبدالرؤف نے اہل خانہ کو اطلاع دی کہ بچی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے۔ اطلاع ملنے پر اسے فوری طور پر بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کر دی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق بچی کی گردن پر رسی یا پھندے کے واضح نشانات پائے گئے ہیں، جس کے باعث مقدمہ قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اچھرہ کی اتحاد کالونی میں ایک گھر میں قائم ٹیوشن سینٹر میں پیش آیا، جہاں محلے کی 15 سے 20 بچیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ واقعے کے روز نعیمہ اپنی دو بہنوں کے ساتھ ٹیوشن پہنچی تھی۔ دورانِ کلاس اس نے واش روم جانے کی اجازت لی، تاہم کافی دیر گزرنے کے باوجود واپس نہ آئی۔ تشویش پر اس کی بڑی بہن واش روم گئی تو نعیمہ نیم مردہ حالت میں پڑی تھی۔ شور مچنے پر اہل محلہ جمع ہو گئے اور بچی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی۔پولیس نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد نعیمہ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق طالبہ کے گلے پر پھندے کا واضح نشان موجود ہے اور موت کی وجہ گلے میں پھندا لگنا قرار دی گئی ہے، جبکہ جسم پر تشدد یا زبردستی کے کوئی واضح آثار نہیں ملے۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس اور دیگر اہم شواہد اکٹھے کرکے فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔ پولیس کے مطابق واش روم کا دروازہ لاک نہیں تھا، جبکہ مزید تفتیش کے لیے گھر کے مالک کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔محلے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ گھر میں دو بہنیں عرصہ دراز سے ٹیوشن سینٹر چلا رہی ہیں اور ان کے اپنے بچے بھی وہاں پڑھتے رہے ہیں، اس سے قبل کبھی کسی قسم کی شکایت یا ناخوشگوار واقعہ سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب جاں بحق بچی کے والد محمد عدنان، جو پیشے کے لحاظ سے رکشہ ڈرائیور ہیں، نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ان کی بیٹی کے ساتھ کیا ہوا، تاہم انہیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انصاف کرے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ، پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں واقعے کی تمام ممکنہ جہتوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
