Baaghi TV

جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز سکیورٹی مشن میں شمولیت پر غور کرنے لگا

me

‎جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے عالمی کوششوں میں مرحلہ وار تعاون پر غور کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی بحری راستوں کی سکیورٹی اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
‎جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آن گیو بیک نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ دو روز قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے ملاقات میں سیول کا مؤقف پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق جنوبی کوریا ایک ذمے دار عالمی رکن کے طور پر مختلف تعاون کے طریقوں کا جائزہ لے رہا ہے۔
‎انہوں نے کہا کہ ممکنہ تعاون میں سیاسی حمایت، فوجی اہلکاروں کی محدود تعیناتی، انٹیلی جنس اور معلومات کا تبادلہ، اور فوجی سازوسامان کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر فوجی شرکت میں بڑے پیمانے پر اضافے سے متعلق کوئی تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی۔
‎دوسری جانب جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر وی سنگ لاک نے کہا کہ سیول امریکا کی قیادت میں قائم “میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ” میں شمولیت کے امکان کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔
‎اس سے قبل فرانس، برطانیہ اور آسٹریلیا بھی آبنائے ہرمز میں سکیورٹی مشن میں شامل ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی بڑھتی دلچسپی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بین الاقوامی تجارت اور توانائی سپلائی کے لیے کتنی اہم ہو چکی ہے۔
‎ماہرین کے مطابق دنیا کے تیل اور گیس کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

More posts