بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) منوج مکند نروانے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے رہنما دتاتریہ ہوسابالے کے اس موقف کی تائید کی ہے جس میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی بات کی گئی تھی۔ سابق آرمی چیف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی اور روابط کی بحالی ہی بہتر دو طرفہ تعلقات کی بنیاد بن سکتی ہے۔
جنرل نروانے کا کہنا تھا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے مابین تناؤ کم کرنے اور تعلقات کو پٹری پر لانے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، عوامی سطح پر میل جول اور مثبت تعلقات کے ذریعے ہی دونوں حکومتوں کے درمیان موجود سرد مہری کو ختم کیا جا سکتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے امکانات کو روشن کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل آر ایس ایس کے اہم رہنما نے بھی پاکستان کے ساتھ مکالمے کے حق میں بیان دیا تھا، جسے اب بھارتی عسکری قیادت کے سابق سربراہ کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔
بھارت کے سابق آرمی چیف کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر زور
