ایرانی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیے ہتھیاروں کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔ ایرانی حکام کے اس بیان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی مسلح افواج کی نگرانی میں سفر کرنا ہوگا تاکہ “محفوظ آمدورفت” کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت ایرانی افواج کے “اسٹریٹجک کنٹرول” میں ہے۔ ان کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کے مغربی حصے کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کر رہی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے کہا کہ ایران خطے میں کسی بھی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گا جو اس کی قومی سلامتی یا علاقائی استحکام کے خلاف ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوجی اڈوں کے لیے اسلحہ یا فوجی سامان لے جانے والے جہازوں پر خصوصی نظر رکھی جائے گی۔
ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور ایران، امریکا و اسرائیل کے درمیان تنازع کے باعث اس اہم بحری راستے کی سکیورٹی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے “اسٹریٹجک کنٹرول” کے دعوے اور امریکی فوجی سامان کی ترسیل روکنے کی وارننگ خطے میں مزید تناؤ پیدا کر سکتی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایران کا آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول کا اعلان، امریکی ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کی دھمکی
