عراقی خام تیل لے جانے والا ایک چینی آئل ٹینکر کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج عمان پہنچ گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل سے لدا چینی جہاز “یوآن ہوا ہو” اس وقت خلیج عمان کے قریب لنگر انداز ہے۔ اطلاعات کے مطابق جس مقام پر جہاز موجود ہے وہاں امریکی بحریہ نے ایرانی جہازوں کی نگرانی اور ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگی صورتحال شروع ہونے کے بعد یہ تیسرا چینی آئل ٹینکر ہے جس کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صورتحال سے آگاہ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے خطے میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے عراق اور پاکستان کے ساتھ مخصوص معاہدوں پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے معاہدوں کے امکانات تلاش کر رہے ہیں تاکہ توانائی کی سپلائی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا اثر عالمی تیل منڈی اور معیشت پر فوری طور پر پڑتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی آئل ٹینکر کی محفوظ گزرگاہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود عالمی طاقتیں توانائی کی ترسیل جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی کنٹرول کے باعث صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے۔
چینی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا، خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی کے قریب لنگر انداز
