ایران نے امریکا کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی دھمکی آمیز پالیسی، اشتعال انگیز بیان بازی اور بے ایمانی خطے میں امن قائم ہونے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی اصل وجہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدوں کی بار بار خلاف ورزیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں استحکام اور امن چاہتا ہے، تاہم مسلسل دباؤ اور دھمکیوں سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق نئے ضوابط تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران عالمی بحری قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے خطے میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال اور کسی بھی منظرنامے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اگر دنیا واقعی “بربریت اور تسلط” کو مسترد کرتی ہے تو اسے ایران کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے۔
ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے امریکا پر تنقید اور دفاعی تیاریوں کے اعلانات خطے میں مزید تناؤ کا اشارہ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو صورتحال عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی طاقتیں خطے میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دے رہی ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔
امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ایران
