امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان پیش رفت جاری ہے اور اگر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھے تو معاہدہ آئندہ ایک یا دو روز میں طے پا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر جلد اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس ممکنہ معاہدے کی تفصیلات یا شرائط بیان نہیں کیں۔
امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت کل بھی سامنے آ سکتی ہے اور اگر مزید وقت درکار ہوا تو معاہدہ پرسوں تک بھی طے پا سکتا ہے۔ ان کے بیان نے خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی منڈیوں کی صورتحال کے تناظر میں نئی توقعات کو جنم دیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے۔ ایسے میں کسی ممکنہ معاہدے کی خبر کو خطے میں استحکام اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اب تک ایرانی حکام کی جانب سے امریکی وزیر خزانہ کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی آسکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی اعتماد بحال ہونے کا امکان ہے۔
سیاسی اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز اس معاملے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی پیش رفت کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی تجارت پر بھی مرتب ہوں گے۔
آبنائے ہرمز پر ایران سے جلد معاہدہ ہوسکتا ہے، امریکی وزیر خزانہ
