Baaghi TV

آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف مزید سخت ،عمان کے ساتھ مذاکرات

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ ایک ایسے عارضی انتظام پر مذاکرات جاری ہیں جس کے تحت آئندہ ایک سے تین ماہ تک بحری آمدورفت ایران کے طے کردہ نظام کے مطابق ہوگی۔

ایرانی مذاکراتی کمیٹی کے رکن سعید اجورلو کے مطابق تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی، بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر بحری خدمات ایران کی نگرانی میں انجام دی جائیں گی، اسی لیے مذاکرات صرف عمان کے ساتھ کیے جا رہے ہیں، امریکہ اس عمل کا فریق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ سے پہلے کا بحری گزرگاہ کا نظام دوبارہ بحال نہیں ہونا چاہیے اور موجودہ حالات کے مطابق نیا انتظام ضروری ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ عمان کے ساتھ ایک عارضی درمیانی بحری راہداری پر بات چیت جاری ہے، جو مستقل معاہدہ طے ہونے تک استعمال کی جا سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل خام تیل، جو عالمی یومیہ پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ بنتا ہے، دنیا کی مختلف منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس (LNG) کی بھی تقریباً 20 فیصد تجارت ہوتی ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی منڈی پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق عمان کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز نامعلوم میزائل نما شے کی زد میں آ گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کا مکمل برقی نظام ناکارہ ہوگیا اور اسے فوری امداد طلب کرنا پڑی۔ میری ٹائم سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں اس علاقے میں تجارتی جہازوں کو متعدد سیکیورٹی خطرات، دھماکوں اور انتباہی فائرنگ جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ادھر ایران کے سپریم لیڈر کے عسکری مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے بحری ناکہ بندی برقرار رکھی یا ایران کی منظوری کے بغیر کسی متبادل بحری راستے کو استعمال کرنے کی کوشش کی تو ایرانی مسلح افواج امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کریں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ پہلے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرے، جنگی اقدامات بند کرے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی ختم کرے، اس کے بعد ہی آئندہ پیش رفت ممکن ہوگی۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر محفوظ اور معمول کے مطابق بحال نہیں ہوتی، عالمی منڈی میں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے، اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل برآمدی راستوں کی گنجائش بڑھانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

More posts