بنگلادیش نے جلاوطن سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی نئی دہلی سے متوقع ورچوئل خطاب کے معاملے پر بھارت سے اپنا مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایک مفرور شخصیت کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی تو دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ بنگلادیش کی جانب سے پہلا باضابطہ ردعمل ہے، جو شیخ حسینہ کے 5 اگست کو نئی دہلی میں جنوبی ایشیا کے فارن کورسپانڈنٹس کلب کے زیر اہتمام ہونے والی تقریب میں متوقع آن لائن خطاب کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ تقریب بنگلادیش میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی اس تحریک کی دوسری برسی کے موقع پر منعقد کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
ڈھاکا حکومت مسلسل بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ شیخ حسینہ اگست 2024 میں اقتدار سے علیحدگی کے بعد بھارت منتقل ہو گئی تھیں، جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔ ان کے خلاف بنگلادیش میں متعدد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، تاہم انہوں نے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ رواں سال دسمبر میں وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
بنگلادیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ شمع عبید اسلام نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھارت کے ساتھ مستقبل پر مبنی مثبت تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ اس پیش رفت پر کوئی منفی اثر پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بھارت کو اپنا مؤقف واضح کرنا ہوگا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد برقرار رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شیخ حسینہ کی متوقع ورچوئل تقریر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ ان کی حوالگی کا معاملہ بھی سفارتی سطح پر اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ اگر بھارت انہیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے تو یہ معاملہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔
شیخ حسینہ کی مجوزہ ورچوئل تقریر پر بنگلادیش نے بھارت سے مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ کر دیا
