روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک بار پھر شدت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں یوکرین نے روس کے فوجی اور توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچے کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ یوکرینی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد روس کی جنگی صلاحیت اور فوجی رسد کو متاثر کرنا تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی کہ یوکرینی افواج نے روس کے علاقے سراتوف میں دو اہم اسٹریٹجک مقامات پر کامیاب حملے کیے۔ یہ مقامات محاذ جنگ سے تقریباً 600 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہیں، جس سے یوکرین کی طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہے۔
صدر زیلنسکی کے مطابق حملوں میں سراتوف آئل ریفائنری اور اینگلز ملٹری ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ اینگلز ایئر بیس کو روسی فضائیہ کے اہم مراکز میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے بھی آپریٹ کیے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ یوکرینی افواج نے کالوگا کے علاقے میں لیوڈینوسکایا آئل ڈپو پر بھی حملہ کیا، جہاں ایندھن ذخیرہ کیا جاتا تھا۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے روسی فوج کو ایندھن اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق روس کے برائنسک علاقے میں بھی ایک ایسی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا جہاں حملہ آور ڈرونز کو ذخیرہ، تیار اور لانچ کیا جاتا تھا۔ یوکرینی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ مقام روسی فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔
صدر زیلنسکی نے اپنی دفاعی افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوکرین اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے اور روس کی ان تنصیبات کو نشانہ بناتا رہے گا جو جنگی کارروائیوں اور مالی وسائل کی فراہمی میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب روس کی جانب سے فوری طور پر حملوں کے نقصانات یا ممکنہ جانی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ جنگ کے آغاز کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کے اہم فوجی اور توانائی کے مراکز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
یوکرین کے روسی فوجی اڈوں اور آئل تنصیبات پر طویل فاصلے تک میزائل حملے
