اسرائیلی حملوں سے تباہ حال غزہ میں 136 گھنٹے تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے دوران ملبے سے ایک ہی خاندان کے 112 افراد کی لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کر لی گئیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید درجنوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق غزہ کی شہری دفاعی ایجنسی نے بتایا کہ جنوبی غزہ کے علاقے صبرہ میں جاری طویل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران الحساینۃ خاندان کے رہائشی بلاک کے ملبے سے بڑی تعداد میں لاشیں نکالی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن مسلسل 136 گھنٹے جاری رہا، جس کے دوران 112 افراد کی لاشیں اور باقیات برآمد ہوئیں، جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا گیا ہے۔
شہری دفاع کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں الحساینۃ خاندان کا پورا رہائشی بلاک مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ اس مقام پر دو ہفتے قبل ریسکیو کارروائیاں شروع کی گئی تھیں، تاہم شدید تباہی اور محدود وسائل کے باعث آپریشن انتہائی دشوار ثابت ہوا۔
ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنے والے کرنل محمد ابو دان نے بتایا کہ کئی لاشیں کنکریٹ اور لوہے کے سریے کے نیچے بری طرح دبی ہوئی تھیں، جبکہ متعدد انسانی باقیات اس قدر متاثر ہو چکی تھیں کہ ان کی فوری شناخت ممکن نہیں رہی۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ تباہ شدہ عمارت کے ملبے میں 150 سے زائد مزید لاشیں موجود ہو سکتی ہیں، لیکن بھاری مشینری اور جدید ریسکیو آلات کی عدم دستیابی کے باعث انہیں نکالنے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
کرنل محمد ابو دان نے عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں سے اپیل کی کہ غزہ میں فوری طور پر بھاری مشینری، ریسکیو آلات اور انسانی امداد فراہم کی جائے تاکہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کا عمل تیز کیا جا سکے۔
غزہ: ریسکیو آپریشن میں ایک ہی خاندان کی 112 لاشیں ملبے سے برآمد
