Baaghi TV


ایران کا یوکرین سے بحیرۂ کیسپین جہاز حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ

‎ایران نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرۂ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری باضابطہ طور پر قبول کرے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران اس معاملے کو اٹھایا اور حملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
‎وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی تجارتی جہاز پر حملے میں ایرانی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے، اس لیے اس واقعے کو غیر ارادی قرار دینا قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں یوکرین کے وزیر خارجہ سے بھی اس معاملے پر بات ہوئی، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ حملے کی مکمل ذمہ داری واضح طور پر قبول کی جانی چاہیے۔
‎ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے عوامی بیانات اس حملے کی ذمہ داری کی نشاندہی کرتے ہیں، لہٰذا اس واقعے کو حادثاتی قرار دینے کی گنجائش نہیں رہتی۔
‎دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایران پر زور دیا کہ وہ روس کو دی جانے والی فوجی معاونت ختم کرے۔ انہوں نے ایران میں دو فرانسیسی سفارت کاروں کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لینے کے واقعے کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔
‎کاجا کالاس نے عباس عراقچی اور یوکرینی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والے رابطے کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ سفارتی بات چیت کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
‎دریں اثنا دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، جہاں حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق خطے میں جاری تنازعات کے تناظر میں ایران، یوکرین اور یورپی یونین کے درمیان سفارتی رابطے آئندہ دنوں میں مزید اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔

More posts