مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافے کے باعث فلسطینیوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں میں گھروں کی مسماری، زمینوں پر قبضے اور فوجی کارروائیوں میں شدت آنے سے شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے نابلس سے تعلق رکھنے والی صحافی سارہ ابو الرب نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی حلقوں میں کھلے عام فلسطینیوں کو مزید علاقوں سے بے دخل کرنے، ان کی نقل و حرکت محدود کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد بڑھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ زمینی حقائق اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیلی فورسز گھروں کو مسمار کرنے، فلسطینی اراضی پر قبضہ کرنے اور مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر رہی ہیں۔ ان اقدامات کے باعث متاثرہ خاندان شدید بے یقینی اور خوف کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ صرف سڑکوں یا بازاروں میں ہی نہیں بلکہ اپنے گھروں کے اندر بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ رات کے وقت چھاپوں، گرفتاریوں اور اچانک فوجی کارروائیوں کے خدشات نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہو چکے ہیں۔ متعدد علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں، کاروبار اور روزمرہ کی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ بچوں اور خواتین میں خوف اور ذہنی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دے رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں تیز، فلسطینی اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ
