مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جہاں امریکا نے ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کر دیا، جبکہ جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق جنوبی ایران کے کئی مقامات پر زور دار دھماکے سنے گئے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ قشم جزیرے میں شہر کے اندر کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ مقامی افراد کے مطابق ایک میزائل رہائشی علاقے میں آ گرا۔ تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔رپورٹس کے مطابق بوشہر صوبے میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں ایران کا واحد جوہری بجلی گھر واقع ہے۔ اس کے علاوہ بندر عباس میں دو دھماکوں، جبکہ ابوموسیٰ، کیش اور قشم کے جزیروں سے بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک امریکی سینئر عہدیدار کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے اندر متعدد اہداف پر فضائی حملے کر رہی ہے۔
یہ کارروائی ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کے مبینہ میزائل حملے کا "انتہائی سخت جواب” دینے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو منٹوں میں تباہ کر دیا تھا۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران نے دشمن کے خلاف مزاحمت کی نئی مثال قائم کی ہے اور ایرانی قوم ظلم اور ناانصافی کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائے گی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ دشمن کے خلاف ثابت قدم رہیں۔
دریں اثنا امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جنوبی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اب تک 20 تجارتی جہازوں کو واپس موڑا جا چکا ہے۔ سینٹکام کے مطابق دو جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ دو دیگر پر چڑھ کر کارروائی بھی کی گئی۔علاقائی کشیدگی کے تناظر میں عراق نے اپنی سرزمین سے سعودی عرب پر مبینہ حملوں کے دعووں کے ثبوت طلب کر لیے ہیں، جبکہ اسرائیلی آرمی چیف نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اسرائیلی افواج لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب ایران کی وزارت اطلاعات نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل سے منسلک چار دہشت گرد نیٹ ورک ختم کر دیے گئے ہیں اور 15 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ایرانی فوج کے نائب سربراہ ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بحریہ کی اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کی بحری نقل و حرکت ممکن نہیں۔
