Baaghi TV


انگلینڈ کے نصف سے زائد علاقوں میں خشک سالی نافذ، ریکارڈ کم بارش

‎برطانیہ کے مختلف علاقوں میں غیر معمولی گرمی اور ریکارڈ کم بارش کے باعث انگلینڈ کے نصف حصے میں باضابطہ طور پر خشک سالی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال پانی کی قلت، زراعت اور جنگلاتی آگ کے خطرات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
‎انگلینڈ کی ماحولیات ایجنسی کے مطابق سات علاقوں کو سرکاری طور پر خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں ایسٹ اینگلیا، ہرٹفورڈشائر، پورا لندن، ٹیمز ویلی، ہیمپشائر، آئل آف وائٹ، ڈیون، کارن وال، ویسٹ مڈلینڈز اور ویسیکس شامل ہیں، جس میں ڈورسیٹ، سومرسیٹ، ولٹ شائر اور جنوبی گلوسٹرشائر کے علاقے بھی آتے ہیں۔
‎حکام کے مطابق جولائی کے دوران بارش کی مقدار معمول سے انتہائی کم رہی۔ پورے انگلینڈ میں متوقع بارش کا صرف سات فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جنوبی انگلینڈ کے بعض علاقوں میں صرف ایک فیصد بارش ہوئی، جو غیر معمولی صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔
‎ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ جولائی ریکارڈ کی تاریخ کا خشک ترین مہینہ بننے جا رہا ہے۔ دوسری جانب ویلز بھی تقریباً 190 برسوں کی تاریخ میں اپنے خشک ترین جولائی کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے پانی کے ذخائر اور زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
‎ادھر ملک میں رواں سال گرمی کی چوتھی شدید لہر اپنے عروج پر پہنچنے والی ہے۔ بدھ کے روز بعض علاقوں میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے باعث جنگلاتی آگ بھڑکنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
‎ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خشک موسم، تیز ہواؤں اور شدید گرمی کے امتزاج سے جنگلاتی آگ کی شدت غیر معمولی ہو سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں سے پانی کے محتاط استعمال، غیر ضروری آگ جلانے سے گریز اور مقامی حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

More posts