پاکستان نے بھارت میں مذاکرات اور تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے سامنے آنے والی آوازوں کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت میں اب مذاکرات کی باتیں کرنے والی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جو خطے میں امن کے لیے خوش آئند اشارہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ بھارتی حکومت بھی ان آوازوں پر مثبت ردعمل دے گی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کو اس وقت کسی ٹریک ٹو یا بیک ڈور ڈپلومیسی سے متعلق معلومات نہیں ہیں، تاہم پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے بامعنی مذاکرات اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بنوں کی فتح خیل پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت بھی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے باقاعدہ ڈی مارش دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
علاقائی سفارتکاری کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان امریکا اور چین کے درمیان جاری رابطوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم کے متوقع دورۂ چین کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ تاریخ حتمی ہونے پر باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے سی بی ایس کی ایرانی طیارے سے متعلق رپورٹ کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے “گمراہ کن اور حقائق کے منافی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ایرانی طیارہ جنگ بندی کے دوران سفارتی عملے اور انتظامی امور کے سلسلے میں اسلام آباد آیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے لیے نرم سفارتی پیغام خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بھارت میں بھی بعض حلقوں کی جانب سے بات چیت کی حمایت کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے بھارت میں مذاکرات کی آوازوں کو مثبت پیش رفت قرار دے دیا
