ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور متعلقہ فریقوں کے درمیان انتظامی پروٹوکولز پر مفاہمت کے بعد سامنے آئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے بعض چینی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد کل سے ان جہازوں کی نقل و حرکت بحال ہونا شروع ہو گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ اجازت مخصوص انتظامی اور سکیورٹی قواعد و ضوابط کے تحت دی گئی ہے تاکہ خطے میں بحری آمدورفت کو منظم اور محفوظ بنایا جا سکے۔
یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران، امریکا اور مغربی ممالک کے درمیان جاری تناؤ کے سبب اس اہم بحری راستے میں جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے چین جیسے بڑے درآمد کنندہ ملک کے جہازوں کی آمدورفت کی بحالی عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے چینی جہازوں کو اجازت دینا دونوں ممالک کے قریبی اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ چین پہلے ہی ایران کے توانائی شعبے میں اہم شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب عالمی مبصرین خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
چینی جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمدورفت دوبارہ شروع
