پاکستان کی فضائی حدود کے قریب ایک افسوسناک واقعے میں شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹو ایئرویز کا کارگو طیارہ دوران پرواز خلیج میں ریڈار سے اچانک غائب ہوگیا، ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے
کارگو طیارہ دورانِ پرواز ریڈار اور مواصلاتی نظام سے مکمل طور پر منقطع ہوگیا، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حادثے کے وقت طیارے میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔ترجمان کے مطابق نجی کمپنی کا کارگو طیارہ شارجہ سے کراچی آرہا تھا کہ دورانِ پرواز پائلٹ نے نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی۔ کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری طور پر طیارے کو رہنمائی فراہم کی اور صورت حال کو معمول پر لانے کی کوشش کی، تاہم کچھ ہی دیر بعد طیارے کی پرواز میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آنے لگا اور اس نے اپنی سمت بھی تبدیل کر لی۔ اس دوران ایئر ٹریفک کنٹرول نے بار بار طیارے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن نہ صرف ریڈیو رابطہ منقطع ہوگیا بلکہ طیارہ ریڈار اسکرین سے بھی غائب ہوگیا۔ابتدائی معلومات کے مطابق کیپٹن رضوان اور کیپٹن جتوئی طیارے کے پائلٹس میں شامل تھے۔
پی اے اے کے مطابق طیارہ کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں ریڈار سے غائب ہوا۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا اور سمندر میں وسیع پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ لاپتا طیارے کی تلاش میں متعدد قومی ادارے حصہ لے رہے ہیں۔ بحری اور فضائی وسائل کو بھی سرچ آپریشن میں شامل کیا گیا ہے تاکہ طیارے اور اس میں سوار عملے کا جلد از جلد سراغ لگایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کی جائیں گی۔ ابتدائی طور پر نیویگیشن سسٹم میں خرابی اور بعد ازاں طیارے کے اچانک بلندی کھونے کے واقعے کو تحقیق کا اہم حصہ بنایا جائے گا۔ پی اے اے نے کہا ہے کہ جیسے ہی مزید مصدقہ معلومات سامنے آئیں گی، انہیں عوام اور میڈیا کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد فضائی شعبے سے وابستہ اداروں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ متاثرہ عملے کے اہل خانہ بھی مزید معلومات کے منتظر ہیں۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام کو امید ہے کہ جلد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔
