Baaghi TV

‎موہن جو دڑو کے نوادرات اسمگل کرنے کا منصوبہ ناکام، بین الصوبائی اسمگلر گرفتار

‎جیکب آباد: سندھ کے ہزاروں سال قدیم عالمی ثقافتی ورثے موہن جو دڑو سے تاریخی نوادرات چوری کرکے بیرونِ ملک اسمگل کرنے کا مبینہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ جیکب آباد میں پولیس اور وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن کے دوران ایک بین الصوبائی اسمگلر کو گرفتار کر لیا۔
‎پولیس کے مطابق یہ کارروائی کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے)، شاہین فورس، آئی ٹی برانچ اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے عمل میں آئی۔ گرفتار ملزم کی شناخت سید لال شاہ کے نام سے ہوئی ہے، جس پر قیمتی تاریخی نوادرات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
‎حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اہم انکشافات کیے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ موہن جو دڑو سے نایاب اور قیمتی نوادرات چوری کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا تھا اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جا رہے تھے۔
‎تفتیش کے مطابق چوری کیے جانے والے نوادرات کو سندھ سے بلوچستان کے راستے بیرونِ ملک اسمگل کرنے کا مکمل نیٹ ورک تیار کیا جا رہا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے باعث ملک کے قیمتی تاریخی ورثے کو نقصان پہنچنے سے بچا لیا گیا۔
‎پولیس نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر قانونی اسلحہ، اہم دستاویزات اور ایسے شواہد بھی برآمد ہوئے ہیں جو اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں۔ برآمد ہونے والے شواہد کی مدد سے دیگر ملوث افراد، سہولت کاروں اور ممکنہ خریداروں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
‎حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے سندھ، بلوچستان اور سرحدی علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانے یا بیرونِ ملک اسمگل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔
‎ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق موہن جو دڑو دنیا کے قدیم ترین شہری مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس سے وابستہ نوادرات نہ صرف پاکستان بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ ثقافتی سرمایہ ہیں۔ ایسے تاریخی اثاثوں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے اور ان کی غیر قانونی خرید و فروخت یا اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔

More posts