لاہور ہائی کورٹ نے پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کے خلاف آئینی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیے
لاہور ہائی کورٹ نے پٹرولیم لیوی کی آئینی حیثیت اور قانونی جواز پر وفاق سے جواب طلب کر لیا،جوڈیشل ایکٹوازم پینل اور وحید شہزاد بٹ کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کی اہم کارروائی،محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی وساطت سے دائر درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے گئے،پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو پارلیمانی منظوری کے بغیر عائد اور بڑھانے کا اقدام چیلنج کیا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پٹرولیم لیوی درحقیقت ایک ٹیکس ہے جسے صرف پارلیمنٹ ہی منظور کر سکتی ہے،لاہور ہائی کورٹ نے پٹرولیم لیوی سے متعلق رپورٹ اور پیراوائز کمنٹس طلب کر لیے
درخواست میں پٹرولیم لیوی کے مسلسل اضافے کو آئین کے منافی قرار دیا گیا،پٹرولیم لیوی کے تعین اور اضافے کے لیے ایگزیکٹو کو دیے گئے لامحدود اختیارات چیلنج کئے گئے،درخواست میں مؤقف کہ قانونی حدود اور رہنما اصولوں کے بغیر لیوی بڑھانے کا اختیار غیر آئینی ہے،پٹرولیم لیوی کو این ایف سی ایوارڈ کے قابل تقسیم محاصل سے باہر رکھنے کا اقدام بھی چیلنج کیا گیا،درخواست گزاروں کا مؤقف کہ پٹرولیم لیوی کی رقم صوبوں کے مالی حقوق کو متاثر کر رہی ہے،لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس خالد اسحاق پر مشتمل بینچ نے سماعت کے بعد حکم جاری کیا،عدالت نے کیس گرمیوں کی تعطیلات کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا
لاہور ہائی کورٹ میں پٹرولیم لیوی کی قانونی حیثیت، پارلیمانی بالادستی اور صوبائی حقوق کا معاملہ زیر سماعت آ گیا،درخواست میں مؤقف کہ ٹیکس کا نفاذ، اضافہ یا وصولی صرف آئین اور قانون کے مطابق ہی ہو سکتی ہے،پٹرولیم لیوی کیس کا فیصلہ وفاقی ٹیکس پالیسی اور صوبائی مالی حقوق پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے
