لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مری اور اس کے نواحی علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی اصولی منظوری دے دی ہے، جن میں کوٹلی ستیاں میں صوبے کا پہلا اسکائی گلاس برج بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں مری کے تحفظ اور بحالی کے منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں لینڈ سلائیڈنگ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے چٹا موڑ، دریا گلی، بانسرہ گلی، نمل اور جھیکا گلی سمیت مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ افراد کی بحالی کو ترجیح دینے کی ہدایت کی۔ اس کے ساتھ مری میں تین نئے ہاسپٹلٹی زونز قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی، جہاں نجی شعبے کے تعاون سے عالمی معیار کے ہوٹل تعمیر کیے جائیں گے۔
اجلاس میں مری کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے اہم سڑکوں کی توسیع کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا، جس کے تحت جھیکا گلی روڈ اور ریچ بل روڈ کو وسیع کیا جائے گا۔ مزید برآں مری گلاس ٹرین پراجیکٹ کے تعمیراتی کام کا آغاز ایک ماہ میں کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
سیاحت کے فروغ کے لیے تین نئے پارکس، ایک جدید زولوجیکل گارڈن، ایکوزون، برج کراسنگ اور جدید کانفرنس روم بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بیئر اور ٹائیگر ہاؤسز کے قیام کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
چیوڑاہل کے مقام پر مری کا پہلا گلیمینگ پوڈ ویلج بھی قائم کیا جائے گا، جسے جدید سیاحتی سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا اور اس کا انتظام نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔
Category: لاہور
-

مری میں اسکائی گلاس برج اور بڑے سیاحتی منصوبوں کی منظوری: مریم نواز
-

لاہور میں گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد، پولیس اہلکار معطل
تھانہ ڈیفنس اے میں گھریلو ملازمہ اور اس کے بھائی پر مبینہ پولیس تشدد کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اعلیٰ حکام نے فوری کارروائی کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق 18 سالہ گھریلو ملازمہ پر ایک گھر سے انگوٹھی چوری کرنے کا الزام لگایا گیا، جس پر پولیس نے بغیر ٹھوس شواہد کے اسے اور اس کے بھائی کو حراست میں لے لیا۔ متاثرین کے مطابق دورانِ حراست انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کی ویڈیوز سامنے آنے پر معاملہ سنگین ہو گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سخت ایکشن لیا اور ایس ایچ او ڈیفنس اے سمیت تھانے کے تمام عملے کو معطل کر کے کلوز لائن کر دیا۔ اس کے ساتھ متعلقہ ایس ڈی پی او کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق تشدد میں ملوث دو اہلکاروں، کانسٹیبل حفصہ اور کانسٹیبل ساجد کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کی انکوائری ایس پی کینٹ کے سپرد کی گئی ہے اور 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے واضح کیا کہ پولیس حراست میں کسی بھی قسم کا تشدد یا اختیارات کا ناجائز استعمال ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے ساتھ قانون اور احترام کے مطابق سلوک یقینی بنایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
دوسری جانب متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی فراہمی اور ذمہ دار اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ -

یکم ذیقعد 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی
مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے پاکستان میں ذیقعد کا چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
چاند دیکھنے کے لیے کمیٹی کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین مولانا محمد عبدالخبیر آزاد نے کی،مولانا عبدالخبیر آزاد نے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے چاند کی رویت کی شہادتیں موصول ہوئیں، جس کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ذیقعد کا چاند نظر آچکا ہے۔ یکم ذیقعد 1447 ہجری کل، یعنی 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی اس موقع پر ملکی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
اس سے قبل پاکستان کے قومی خلائی ادارے ‘سپارکو’ نے ماہِ ذوالقعد 1447 ہجری کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیش گوئی کی تھی اسپارکو نے بتایا تھا کہ پاکستان میں ذوالقعد کا چاند 18 اپریل کی شام ملک بھر میں نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔
-

روٹ ٹو مکہ اقدام کے تحت پہلی حج پرواز علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے روانہ
لاہور – روٹ ٹو مکہ اقدام کے تحت پہلی حج پرواز SV-5735 مقررہ وقت صبح 10:30 کے بجائے صبح 10:54 پر روانہ ہوئی۔
اس موقع پر ایئرپورٹ پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مولانا طاہر اشرفی اور مملکت سعودی عرب کے سفیر عزت مآب نواف بن سعید نے شرکت کی۔ دیگر معزز شرکاء میں انجینئر جفن بن خلف علی الشمر، جناب ابرار احمد مرزا (وفاقی سیکرٹری مذہبی امور)، میجر جنرل ڈاکٹر صالح بن سعد المیرابہ، جناب خواجہ سلمان رفیق (صوبائی وزیر برائے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر)، اور جناب سردار محمد یوسف (وفاقی وزیر مذہبی امور) شامل تھے۔ ایئرپورٹ کے سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے جن میں ائیرپورٹمینیجر، ڈپٹی ائیرپورٹ مینیجر، سٹیشن مینیجر، ٹرمینل مینیجرز ڈیپارچرز اینڈ ارائیولز، مینیجر ائیرسائیڈ، آفیسر انچارج پی ایس ایس، چیف سیکیورٹی آفیسر اے ایس ایف، اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے امیگریشن شامل ہیں۔ پرواز کی روانگی کے دوران دیگر تمام ائیرپورٹ آپریشنز معمول کے مطابق جاری رہے۔
قبل ازیں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سے ایئرسیال کی پہلی حج پرواز PF-7700 ایک سو ساٹھ 160 عازمینِ حج کو لے کر سعودی عرب کے لیے روانہ ہوئی۔ افتتاحی تقریب میں گورنر سندھ نہال ہاشمی، وزیر مملکت برائے اوقاف اور صوبائی وزیر مذہبی امور نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایئرپورٹ منیجر، ڈپٹی ایئرپورٹ منیجر اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے افسران بھی موجود تھے۔ معزز مہمانوں نے عازمینِ حج کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ معزز مہمانوں نے روٹ ٹو مکہ سہولت کے تحت فراہم کردہ انتظامات کا بھی جائزہ لیا، جس میں سعودی امیگریشن کاؤنٹرز شامل ہیں۔ انہوں نے ان سہولیات کو سراہتے ہوئے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ ایئرسیال کی پرواز PF-7700 علی الصبح 2:05 بجے روانہ ہوئی، جو کراچی سے پری حج آپریشنز کا آغاز ہے۔
علاوہ ازیں ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پری حج آپریشنز 2026 کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ائیربلو کی پرواز PA-876 کے ذریعے 151 عازمینِ حج کو مدینہ منورہ روانہ کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی تھے۔ دیگر معزز مہمانوں میں میاں محمد کاظم پیرزادہ (صوبائی وزیر آبپاشی)، رانا عبد المنان ساجد (رکن صوبائی اسمبلی)، اور بیگم مقصودہ انصاری (رکن صوبائی اسمبلی) شامل تھے۔اس موقع پر سی او او/اے پی ایم ایم انور ضیاء، ڈائریکٹر حج ریحان عباس کھوکھر، ڈائریکٹر ٹرمینل آپریشنز ایئر بلیو کنور یاسر، ڈائریکٹر کمرشل ایئر بلیو ایم شفیق، جبکہ اے ایس ایف، ایف آئی اے اور اے این ایف کے افسران بھی موجود تھے۔مہمانِ خصوصی نے ایئرپورٹ انتظامیہ اور ڈائریکٹوریٹ حج کی جانب سے عازمینِ حج کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو سراہا اور حج کے مقدس سفر کی اہمیت پر زور دیا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی نے عازمینِ حج کو پھولوں کے ہار پہنائے اور نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
-

اسکوٹی سوار لڑکی سے ڈکیتی،وزیراعلیٰ مریم نواز کا نوٹس
لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں دن دہاڑے اسکوٹی سوار لڑکی سے ڈکیتی کے واقعے پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فوری نوٹس لیتے ہوئے لاہور پولیس کو ملزم کی 8 گھنٹے میں گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بیٹی کے ساتھ ڈکیتی کا واقعہ پیش آنا انتہائی تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیٹیاں اور بہنیں حکومت کے لیے ریڈ لائن ہیں اور ان کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ خواتین کے تحفظ کا عہد ہر صورت نبھایا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو شہریوں خصوصاً خواتین کے امن و امان کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے لاہور پولیس کو ہدایت جاری کی کہ نہ صرف ملزم کو فوری گرفتار کیا جائے بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات بھی کیے جائیں تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں نامعلوم ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں
-

طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب ،اہم سرغنہ کے ہوشربا انکشافات
گرفتار خارجی دہشتگرد نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب کردیا، سرغنہ فتنہ الخوارج کا کہنا ہے کہ پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کی وجہ سے شامل ہوا۔
سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے سرغنہ عامر سہیل عرف مولوی حیدر نے اعتراف جرم کرلیا، کہا کہ افغان صوبہ پکتیکا میں فتنہ الخوارج کے مرکز میں دہشتگردی کی تربیت حاصل کی، افغانستان میں فتنہ الخوارج کے مراکز کو افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ داعش، القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ بھی ہمارے قریبی روابط تھے، ہمیں افغانستان اور را کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی تھی، میری تشکیل میں 20 سے زائد خارجی دہشتگردوں میں افغان شہری بھی شامل تھے، بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا۔خارجی عامر سہیل نے بتایا کہ مجھے پشاور میں علاج کی غرض سے آنے کے دوران گرفتار کیا گیا، فتنہ الخوارج کا اسلام اور جہاد سے کوئی تعلق نہیں، فتنہ الخوارج صرف پیسے کیلئے پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہیں۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے، پاکستان میں دہشتگردی کیلئے طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کے شواہد موجود ہیں۔
-

امن کی کوششیں،سکھ یاتریوں کا پاکستان کے کردار کو خراج تحسین
بیساکھی کی خوشیوں کے موقع پر دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں، خصوصاً بھارت سے آنے والے زائرین نے پاکستان کا رخ کیا۔
یہ یاتری گوردوارہ پنجہ صاحب ، ننکانہ صاحب اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آئے، جہاں انہوں نے مذہبی رسومات ادا کیں اور روحانی سکون حاصل کیا۔،پاکستان کی جانب سے کیے گئے بہترین انتظامات، سیکیورٹی اور مہمان نوازی نے یاتریوں کے دل جیت لیے۔ یاتریوں نے کھلے دل سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا،ایک سکھ یاتری نے کہا، “ہم پاکستان حکومت کے بے حد مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمیں اتنی عزت دی، یہاں آ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے ہی گھر میں ہوں۔” ایک اور یاتری نے کہا، “یہاں کے لوگ بہت محبت کرنے والے ہیں، ہمیں ہر جگہ عزت اور سہولت ملی، ہم اس مہمان نوازی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔”
عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے یاتریوں نےامریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔ ایک یاتری کے الفاظ تھے، “ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے جو کوشش کی وہ قابلِ تعریف ہے، ہم اس پر دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، “جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، محبت اور امن ہی اصل راستہ ہے۔” کچھ یاتریوں نے زور دیا کہ دنیا کو نفرت کے بجائے بھائی چارے کی ضرورت ہے۔ایک بزرگ یاتری نے کہا “اگر دنیا امن سے رہے گی تو سب خوشحال ہوں گے، ہمیں لڑائی نہیں بلکہ محبت کو فروغ دینا چاہیے،”
سکھ یاتریوں نے پاکستان کے کردار کو عالمی امن کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔ ان کے مطابق، پاکستان نے نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا بلکہ دنیا کو امن، رواداری اور بھائی چارے کا ایک خوبصورت پیغام بھی دیا،
دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں، خصوصاً بھارت سے آنے والے تقریباً 2,800 سے زائد زائرین نے پاکستان کا رخ کیا،سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2,800 سے 2,843 تک ویزے جاری کیے جبکہ پہلے قافلے میں تقریباً 2,238 یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے۔
-

پنجاب میں ریلوے ٹرانسپورٹ کے نئے عہد کا آغاز
پنجاب میں ریلوے ٹرانسپورٹ کے نئے عہد کا آغاز کر دیا
حکومت پنجاب اور پاکستان ریلوے کے درمیان تاریخ ساز قرارداد مفاہمت،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیرریلوے حنیف عباسی نے ایم او یو پر دستخط کردئیے،لاہور سے راولپنڈی پاکستان کی پہلی فاسٹ ٹرین، سوا دو گھنٹے میں سفر طے ہوگا،پنجاب کے 20ریجن میں 8لوکل روٹس پر 1415 کلو میٹر طویل روٹس،پنجاب میں فاسٹ ٹرین اور 8لوکل روٹس پر جدید ترین ٹرین چلائی جائیں گی،حکومت پنجاب علاقائی روٹس پر جدید ترین ڈی ایم یو ٹرین مہیا کرے گی،شاہدرہ سے نارووال 79 کلومیٹر، نارووال سے سیالکوٹ 62 کلومیٹر روٹ پر ٹرین چلے گی،رائیونڈ،قصور، پاکپتن سے لودھراں تک 370 کلومیٹر طویل روٹ پر نئی ٹرین چلے گی،شیخوپورہ، جڑانوالہ، شورکوٹ220 کلومیٹر طویل روٹ پر ٹرین چلائی جائے گی،نئی ٹرین لالہ موسیٰ، ملکوال، سرگودھا147کلومیٹرطویل روٹ پر بھی چلائی جائے گی،فیصل آباد سے براستہ چک جھمرہ، شاہین آباد ٹرین 68 کلومیٹر طویل روٹ پر چلے گی،کوٹ ادو سے براستہ ڈیرہ غازی خان،کشمورتک 303 کلومیٹر طویل بین الصوبائی روٹ پر بھی ٹرین منصوبے میں شامل،حکومت پنجاب نئے روٹس پر نئے ریلوے انجن اور نئی جدید ترین کوچ لائے گی
وفاقی وزیرریلوے حنیف عباسی نےوزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ریلوے کے تاریخی پراجیکٹ کے اجراء پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی تقلید کرتے ہوئے پاکستان ریلوے کی تاریخ بدلنا چاہتے ہیں۔ حکومت پنجاب کی معاونت سے 9 روٹ پر تقریباً 9 کروڑ افراد مستفید ہوسکیں گے۔خوشی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب ریلوے ٹرانسپورٹ پراجیکٹ کو لیڈ اور سپروائز کریں گی۔پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی سربراہی میں انقلابی اقدامات کیے گئے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پورے صوبے میں ستھرا پنجاب پراجیکٹ شروع کیا۔ہیلتھ، ایجوکیشن، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تاریخ ساز اقدامات کیے۔ لاہور کے تاریخی ریلوے اسٹیشن کی حالت زار بدلنے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ممنون ہیں۔ پنجاب بھر ریلوے حادثات کے سدباب کے لئے خودکار سسٹم لایا جارہا ہے ۔ریلوے اسٹیشن کی بیوٹیفکیشن اور عالمی معیار کی پارکنگ بنائی جارہی ہے۔ شاہدرہ سے رائیونڈ تک40 کلومیٹر طویل گرین پارکس بننے سے ٹریک کے اطراف میں یورپی ممالک کی طرز پر خوش کن مناظرنظر آئیں گے۔ پنجاب میں ریلوے ٹریک کے اطراف میں چار لاکھ سے زائد پودے بھی لگائے جارہے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جو سپیڈ ہے، پورے پنجاب کو آٹو پر لگا دیا ہے۔پنجاب کے 70 فیصد سے زائد عوام نے مریم نواز شریف کی لیڈر شپ پر اظہار اطمینان ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کام کیے وہ نظر آرہے ہیں، کام ہی کامیابی ہے۔ماضی میں پاکستان ریلوے کا ایک کلومیٹربھی ٹریک نہیں بنا اور نہ کسی نے سرمایہ کاری کی۔ وزیر ریلوے کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پنجاب میں ریلوے ٹرانسپورٹ کی معیاری سہولت کا خواب پورا ہونے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا مشکور ہوں۔ پنجاب کے عوام کو یورپ کے معیار کے مطابق ریل کی سفری سہولت دینے جارہے ہیں۔سینئر منسٹر مریم اورنگزیب نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے خواب کو عملی تعبیر دینے کے لئے ایک سال بہت محنت کی۔لاہور سے راولپنڈی280 کلومیٹر طویل سفر سوا دو گھنٹے میں طے ہوگا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے عوامی خدمت کے اس پراجیکٹ کی خود نگرانی کی درخواست کی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کے تقریباً 11 کروڑ عوام یورپ کی طرز ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا
-

مولانا امیر حمزہ پر حملہ قابل مذمت،ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، مرکزی مسلم لیگ
مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے تحریک حرمتِ رسول کے چیئرمین مولانا امیر حمزہ پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور علما کرام کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے،مولانا امیر حمزہ اتحاد امت کے داعی ہیں، ان پر حملہ امت کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی مذموم سازش ہے
مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، نائب صدر حافظ طلحہ سعید، حافظ عبدالرؤف، جوائنٹ سیکرٹری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد نیک گجر، انجینئر حارث ڈار، مرکزی ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی، چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان وڑائچ اور صدر مسلم یوتھ لیگ تابش قیوم سمیت دیگر رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ لاہور میں دن دہاڑے فائرنگ کا واقعہ پنجاب حکومت کی سیکیورٹی کے نظام پر سوالیہ نشان ،حکومتی غفلت اور ناکامی ہے، ایسے وقت میں جب پاکستان عالمی سطح پر قیامِ امن کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے، دشمن عناصر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے علما کرام کو نشانہ بنا رہے ہیں،مولانا امیر حمزہ نے ہمیشہ اتحادِ امت کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا اور مختلف مکاتب فکر کے علما کو ایک پلیٹ فارم تحریک حرمت رسول پر جمع کیا، حکومت فوری طور پر حملہ آوروں کی گرفتاری یقینی بنائے ،علما کرام کو تحفظ فراہم کیا جائے،
-

وزیراعلیٰ مریم کی پنجاب کے 10 اضلاع میں نئی الیکٹرک بسیں فراہم کرنے کی منظوری
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے خصوصی اجلاس میں پنجاب بھر میں جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ منصوبوں پر اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں فری ٹرانسپورٹ پروگرام، الیکٹرک بسوں، ای ٹیکسی اور ای بائیک منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کے فری ٹرانسپورٹ پروگرام کے تحت 21 روٹس پر ایک لاکھ سے زائد مسافر مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ بسوں کے 3560 ٹرپس مکمل کیے جا چکے ہیں۔اجلاس میں پنجاب کے 10 اضلاع میں نئی الیکٹرک بسیں فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ ان اضلاع میں اٹک، بھکر، حافظ آباد، خانیوال، لیہ، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین اور اوکاڑہ شامل ہیں۔حکام کے مطابق رواں ماہ 100 الیکٹرک بسیں پنجاب پہنچیں گی، مئی کے وسط تک مزید 350 جبکہ جون کے آخر تک 264 بسیں فراہم کر دی جائیں گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر ڈویژن میں الیکٹرک بسوں کے لیے خصوصی بس ڈپو قائم کیا جائے گا تاکہ جدید ٹرانسپورٹ نظام کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تحصیل سطح پر 1500 الیکٹرک بسیں چلانے کے لیے جامع پلان طلب کر لیا ہے، جس سے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں سفری سہولیات بہتر ہونے کی توقع ہے۔اجلاس میں فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ سسٹم پراجیکٹس پر ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پنجاب کی پہلی ای ٹیکسی سکیم پر رپورٹ پیش کی گئی۔ بتایا گیا کہ مئی میں 194 اور جون میں 208 ای ٹیکسیاں پنجاب پہنچ جائیں گی۔وزیراعلیٰ نے میٹرو بس اسٹیشنز کی تعمیر و مرمت جلد مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے نئے ڈیزائن کی منظوری بھی دی۔لاہور میں "ایمپاور۔ہر” پراجیکٹ کے تحت نئے اور جدید ترین بس اسٹیشنز کی تنصیب کا جائزہ بھی لیا گیا۔اجلاس میں سرکاری ملازمین کے لیے ای بائیک پراجیکٹ کی اصولی منظوری بھی دے دی گئی، جس کا مقصد ملازمین کو سستی، آسان اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔