Baaghi TV

Category: شوبز

  • تعلق ایک اوسط سے بھی کم آمد نی رکھنے والے خاندان سے تھا ،5ہزار پر بھی پرفارم کیا،دلجیت دوسانجھ

    تعلق ایک اوسط سے بھی کم آمد نی رکھنے والے خاندان سے تھا ،5ہزار پر بھی پرفارم کیا،دلجیت دوسانجھ

    بھارتی گلوکار دلجیت دوسانجھ نے انکشاف کیا ہےکہ وہ سالگرہ و شادی کی تقریبات میں تھوڑی رقم پر پرفارم کرکے پیسے کماتے تھے،لائیو پرفارمنسز میں بہت زیادہ پیسہ ہے لیکن پنجابی موسیقی کی صنعت کے کچھ سینئر فنکار شادیوں میں پرفارمنس دینے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔

    بھارتی میڈیا سے گفتگو میں 42 سالہ اداکار و گلوکار دلجیت دوسانجھ نے بتایاکہ ایک وقت تھا جب میں سالگرہ کی تقریبات اور شادیو ں میں پرفارم کرتا تھا، تھوڑی سی رقم پر تیار ہوجاتا اور میں نے کبھی کسی کو انکار نہیں کیا، دلجیت نے بتایا کہ ان کے خاندان کی مالی مشکلات نے انہیں انتھک محنت کرنے کی ترغیب دی ان کا تعلق ایک اوسط سے بھی کم آمد نی رکھنے والے خاندان سے تھا ، کیفیت یہ تھی کہ بیمار ہو جاتے تو ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے،وہ ہمیشہ امیر اور مشہور بننے کا خواب دیکھتے تھے-

    دلجیت کا کہنا تھا کہ ان کا پہلا البم عشق دا اڈا اڈا 2002 میں ریلیز ہوا جس کے بعد چند لوگ ان کی کمپنی میں آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کو سالگرہ کی تقریب کے لیے بک کرنا چاہتے ہیں جب انہوں نے مجھے پیسے دیے تو میں نے سوچا کہ یہی میرا راستہ ہے، میں نے کسی کو بھی انکار نہیں کیا، اگر کسی نے 5 ہزار، 10 ہزار یا 15 ہزار روپے کی پیشکش کی تو فوراً ہاں کر دی، کبھی کسی کو منع نہیں کیا، دن رات ہر جگہ پرفارم کرنے جاتا رہالائیو پرفارمنسز جلد ہی اُن کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی کیونکہ اس میں بہت زیادہ پیسہ ہے لیکن پنجابی موسیقی کی صنعت کے کچھ سینئر فنکار شادیوں میں پرفارمنس دینے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔

  • مجھے وہ پہچان نہیں ملی جس کی میں مستحق ہوں، کنزہ ہاشمی

    مجھے وہ پہچان نہیں ملی جس کی میں مستحق ہوں، کنزہ ہاشمی

    پاکستانی اداکارہ کنزہ ہاشمی نے شکوہ کیا ہےکہ انہیں ان کی اصل قدر و قیمت کے مطابق نہیں سراہا گیا۔

    حال ہی میں ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کنزہ ہاشمی نے کہا کہ میں نے اپنے کیریئر میں ہمیشہ مختلف اور منفرد کردار ادا کرنے کی کوشش کی مجھے لگتا ہے میری اصل قدر و قیمت کے مطابق نہیں سراہا گیا، میں مختلف کردار ادا کرنے کا انتخاب کرتی ہوں،انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ڈرامہ دل آویز میں، میں نے دو بالکل مختلف کردار نبھائے، جبکہ دیگر ڈراموں میں بھی میرے کردار منفرد تھے-

    انہوں نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ مجھے انڈر ریٹڈ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس بات پر مجھے افسوس نہیں لوگ میری صلاحیتوں سے واقف ہیں، اس لیے میں اطمینان کے ساتھ اپنے سفر پر توجہ دے رہی ہوں اور مسلسل محنت کر رہی ہوں میں نے بہت کام کیا ہے لیکن اب میں یہ سمجھتی ہوں کہ اگر کسی کا ایک ڈرامہ ہٹ ہوجائے تو دوسرا ڈرامہ بھی ہٹ ہونا ضروری ہے تبھی وہ اسٹار کہلائے گا، ورنہ لوگ پہلے والے کا بھی کریڈٹ چھین لیتے ہیں،ہر فنکار کا سفر مختلف ہوتا ہے اور وہ مستقبل میں بھی ایسے کرداروں کا انتخاب کرتی رہیں گی جو ان کی اداکاری کی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں-

  • ایشوریہ رائے اور سلمان خان پر فلمایا گیا گانا  8 ویں جماعت کی نصابی کتاب میں شامل

    ایشوریہ رائے اور سلمان خان پر فلمایا گیا گانا 8 ویں جماعت کی نصابی کتاب میں شامل

    بھارتی ریاست اڑیسہ میں 8 ویں جماعت کی نصابی کتاب میں بالی وڈ کے مشہور گانے ’نمبوڑا نمبوڑا‘ کے بول شامل کیے جانے کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ گانا 8 ویں جماعت کی آرٹ ایجوکیشن کی نصابی کتاب ’کیرتی‘ میں شامل کیا گیا ہے جسے بھارت کی قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت تیار کیا گیا تھا نصابی کتاب میں مشہور بالی وڈ فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ کے گانے ’نمبوڑا نمبوڑا‘ کے بول بطور راجھستانی لوک گیت شامل کیے گئے ہیں تاہم یہ گانا بلاک بسٹر فلم میں ایشوریہ رائے اور سلمان خان پر فلمایا گیا تھا جو 1999 میں ریلیز ہوئی تھی۔

    رپورٹس کے مطابق صرف یہی نہیں بلکہ فلم ’’مشن کشمیر‘‘ کا معروف گانا ’’رند پوش مال‘‘ بھی اسی نصابی کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے سوال اٹھایا کہ اڑیسہ جیسی ثقافتی طور پر مالا مال ریاست میں مقامی لوک ورثے کو فروغ دینے کے بجائے بالی ووڈ کے فلمی گانوں کو نصاب میں کیوں شامل کیا گیا۔

    تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کرگیا جب یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ نئی نصابی کتابوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار 678 غلطیاں موجود ہیں اس انکشاف کے بعد ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا صورتحال سنگین ہونے پر اڑیسہ کے وزیراعلیٰ موہن چرن مانجھی اور وزیر تعلیم نتیانند گونڈ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (SCERT) کے سینئر افسران کو معطل کر دیا، جبکہ مزید چھ افسران کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔

    ریاستی حکومت نے مستقبل میں ایسی کوتاہیوں سے بچنے کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی نے نصابی کتابوں کی جانچ پڑتال کے مؤثر نظام کے لیے ’’کوالٹی ایشورنس سیل‘‘ قائم کرنے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ آئندہ تعلیمی مواد کی تیاری میں اس نوعیت کی غلطیوں کو روکا جا سکے-

  • عدنان صدیقی کی وجہ سے میں نےسیٹ چھوڑ کر چلا گیا تھا،کاظم پاشا

    عدنان صدیقی کی وجہ سے میں نےسیٹ چھوڑ کر چلا گیا تھا،کاظم پاشا

    پاکستان کے سابق پروڈیوسر کاظم پاشا نے پروڈکشن چھوڑنے کیوجہ سینئر اداکار عدنان صدیقی کو قرار دیا-

    اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ماضی میں، میں نے اداکار عدنان صدیقی کے ساتھ ایک پروجیکٹ پر کام کیا تھا، تاہم اس دوران مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کہ میں سیٹ چھوڑ کر چلا گیا تھا،عدنان صدیقی کی بعض درخواستوں اور مطالبات کی وجہ سے میں اس تجربے سے نالاں رہا اور بالآخر میں نے اس پروجیکٹ سے علیحدگی اختیار کر لی۔

    کاظم پاشا سے میزبان کی جانب سے اداکار عدنان صدیقی سے متعلق سوال کیا گیا جس کے جواب میں کاظم پاشا نے کہا کہ عدنان صدیقی نے ایک سیریل میں مجھے تنگ کیا اور اس کے بعد میں نے پروڈکشن چھوڑ دی تھی اس کی وجہ یہ ہی تھی کہ عدنان نے مجھے کہا کہ شوٹنگ پر میرے ساتھ میرا منیجر، 3 بیٹیاں اور ان کی نینی ( بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی خاتون) بھی جائیں گی، اس طرح یہ 5 ٹکٹ کا خرچہ ہوگیا، مجھے ٹیم نے کہا کہ کیا ہمیں یہ لاش بناکر بھیجے گا جس پر میں نے کہا کہ آرٹسٹ ہے اور اسے ہیرو کے طور پر کاسٹ کیا گیا ہے۔

    کاظم پاشا نے بتایا کہ اسی طرح اعجاز اسلم کے بنگلے میں شوٹنگ تھی وہاں بھی عدنان نے مجھے تنگ کیا جس پر میں سیٹ چھوڑ کر چلا گیا، وہ کہتے تھے مجھے بھوک لگ رہی ہے جب تک فلاں جگہ سے کھانا نہیں آئے گا میں کام نہیں کروں گا، فلاں چیز چاہیے اگر نہیں آئی تو میں آج شوٹنگ نہیں کراؤں گا، کل ہوگی شوٹنگ،لیکن اس سب کے باوجود عدنان کو میری بیٹیوں سے بہت لگاؤ ہے اور میرے ساتھ بھی بدتمیزی کبھی نہیں کی۔

    کاظم پاشا کا انٹرویو وائرل ہونے کے بعد اس پر عدنان صدیقی نے کہا کہ کاظم صاحب وہ تنگ کرنا نہیں تھا وہ میری شرارتیں تھیں، خیر پھر بھی میں بہت شرمندہ ہوں اپنی حرکتوں پر، آپ سے معافی کی درخواست ہے، مجھے معاف کردیجئے آئندہ کبھی ایسے نہیں ہوگا۔

  • نامناسب انداز میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے پر نیہا دھوپیا  بھی پاپارازی پر برس پڑیں

    نامناسب انداز میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے پر نیہا دھوپیا بھی پاپارازی پر برس پڑیں

    بھارتی اداکارہ نیہا دھوپیا نے پاپارازی کی جانب سے نامناسب انداز میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے-

    ممبئی میں ایک ایوارڈ تقریب کے دوران نیہا دھوپیا براہِ راست فوٹوگرافروں کے پاس گئیں اور کہا کہ بدتمیزی سے بیک شاٹ کون لیتا ہے؟ یہ مت کیا کریں، نہ میرے ساتھ اور نہ ہی کسی اور کے ساتھ، ہم یہ بات بار بار کہہ کر تھک گئے ہیں، ہم باہر آتے ہیں اور آپ لوگ اس طرح کی ویڈیوز بناتے ہیں،اداکارہ سوناکشی سنہا نے بھی نیہا کی حمایت کرتے ہوئے وائرل ویڈیو کے کمنٹس میں لکھا ویل ڈن نیہا۔

    نیہا کا یہ ردِعمل ان کی حالیہ ایک وائرل ویڈیو کے بعد سامنے آیا، جس میں انہیں ٹریک پر دوڑتے ہوئے فلمایا گیا تھا-

    چند روز قبل سوناکشی سنہا بھی ممبئی کے ایک ریسٹورنٹ کے باہر پاپارازی کے رویے سے نالاں دکھائی دی تھیں، وہ اپنے شوہر ظہیر اقبال اور والد کے ہمراہ موجود تھیں، جہاں انہوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا کہ بس، گائز شکریہ، گڈ نائٹ! تاہم اس کے باوجود کیمرے ان کا تعاقب کرتے رہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی بھارتی اداکار نے پاپارازی کی جانب سے نجی زندگی میں مداخلت یا نامناسب زاویوں سے تصاویر لینے پر اعتراض کیا ہو، اس سے قبل سلمان خان، جھانوی کپور، پلک تیواری اور زرین خان بھی اس معاملے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں۔

  • اجے دیوگن کی فلم چوہان کا ٹیزر جاری ہونے کے بعد شدید تنازع کھڑا ہوگیا

    اجے دیوگن کی فلم چوہان کا ٹیزر جاری ہونے کے بعد شدید تنازع کھڑا ہوگیا

    بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن کی آنے والی فلم چوہان کا ٹیزر جاری ہونے کے بعد شدید تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

    ٹیزر میں ایک نوجوان کو احتجاج کے دوران آنکھوں میں پیلٹ لگتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ پس منظر میں اجے دیوگن کی آواز سنائی دیتی ہے، جس میں ان چوٹوں کو محدود نقصان (Limited Damage) قرار دیا جاتا ہے،یہ مکالمہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

    سوشل میڈیا صارفین انسانی حقوق کے حامیوں اور کشمیر کی بعض سیاسی جماعتوں نے ٹیزر کو مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن متاثرین کے زخموں کو معمولی ظاہر کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ پیلٹ گن سے متاثر ہونے والے ہزاروں کشمیریوں کی تکالیف اور مستقل معذوری کو اس انداز میں پیش کرنا ناصرف حقائق کے منافی بلکہ متاثرین کی توہین کے مترادف ہے۔

    سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے فلم کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا ایک صارف نے لکھا پیلٹ گن کو محدود نقصان کہنا ان ہزاروں نوجوانوں کی تکلیف کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے جنہوں نے اپنی بینائی کھو دی کئی صارفین نے کہا کہ پیلٹ گن کے اثرات کو معمولی قرار دینا حقیقت کے برعکس ہےبعض صارفین نے فلم کو پروپیگنڈا فلم قرار دیتے ہوئے اس کے مقصد اور وقت پر بھی سوالات اٹھائے-

    رپورٹس کے مطابق 2010ء سے 2016ء کے درمیان مقبوضہ کشمیر میں 10 ہزار سے زائد افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے، جبکہ صرف جولائی سے اکتوبر 2016 کے دوران ہونے والے احتجاج میں تقریباً 6 ہزار افراد متاثر ہوئے۔ ان میں سے 782 افراد کی آنکھوں پر پیلٹ لگے اور متعدد افراد ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے۔

  • جگن کاظم  سیاحتی مقامات پر گندگی پھیلانے والوں پر برس پڑیں

    جگن کاظم سیاحتی مقامات پر گندگی پھیلانے والوں پر برس پڑیں

    جگن کاظم سیاحتی مقامات پر گندگی پھیلانے والوں پر برس پڑیں-

    جگن کاظم اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ نتھیا گلی کی سیر پر ہیں سفر کے دوران انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں جگن کاظم نے کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ لوگ ہر جگہ کچرا پھیلا رہے ہیں میں جب سے نتھیا گلی آئی ہوں، ہر طرف گندگی ہی نظر آ رہی ہے آپ خود بھی یہ صورتحال دیکھ سکتے ہیں آخر لوگ اپنے ساتھ ایک تھیلا کیوں نہیں رکھتے تاکہ اپنا کچرا اس میں جمع کریں اور مناسب جگہ پر جا کر تلف کریں؟-

    انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میں عام طور پر اس انداز میں بات نہیں کرتی لیکن یہ واقعی ناقابلِ برداشت ہے پھر ہم اپنے ہی ملک کو برا بھلا کہتے ہیں آخر ہم اپنے شہروں اور سیاحتی مقامات کو صاف کیوں نہیں رکھ سکتے؟ ہم ہمیشہ نظام، موسم اور قدرتی حالات پر تنقید کرتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے،ماحولیاتی تبدیلیو ں کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم ماحول اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان خوبصورت نعمتوں کی حفاظت نہیں کر رہے۔

    سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے ماحول کے تحفظ سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے پر جگن کاظم کی تعریف کی جبکہ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ حکومت کو بھی دیگر ممالک کی طرح عوامی مقامات پر مناسب تعداد میں ڈسٹ بنز نصب کرنے چاہئیں تاکہ صفائی برقرار رکھنے میں شہریوں کو سہولت میسر آ سکے۔

  • شادی کی خبریں اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد توثیق حیدر اور فرح سعدیہ کا ویڈیو پیغام جاری

    شادی کی خبریں اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد توثیق حیدر اور فرح سعدیہ کا ویڈیو پیغام جاری

    پاکستان کے معروف ٹی وی میزبان اور اداکار توثیق حیدر اور سینئر اداکارہ و میزبان فرح سعدیہ کی مبینہ شادی کی خبریں اور تصاویر گزشتہ روز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں، تاہم دونوں فنکاروں نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔

    گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا اور خاص طور پر یوٹیوب پر یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دونوں فنکاروں نے آپس میں شادی کر لی ہے مختلف یوٹیوب چینلز نے ان کی تصاویر استعمال کر کے یہ خبریں چلائیں، جس کے بعد یہ معاملہ تیزی سے انٹرنیٹ پر پھیل گیا ، ان افواہوں کے بڑھنے پر توثیق حیدر اور فرح سعدیہ نے خود ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے اصل حقیقت سے آگاہ کیا، دونوں نے واضح کیا کہ ان کی شادی سے متعلق خبریں صرف ویوز اور پیسے کمانے کے لیے پھیلائی گئی تھیں۔

    ویڈیو میں فنکاروں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ہم خوشی خوشی شادی کے بندھن میں بندھ چکے ہیں اور ہم خود یہ خبر آپ کو دینا چاہتے تھے، لیکن افسوس کہ ہمارے یوٹیوبرز نے پہلے ہی یہ خبر بریک کر دی،توثیق حیدرنے کہا کہ جب میں صبح اٹھا تو مجھے پتا چلا کہ میری فرح سے شادی ہو چکی ہے اور اس شادی کا مجھے خود بھی نہیں پتہ، انٹرنیٹ پر ہماری ایک شاندار شادی کی تصویر بھی بنا دی گئی تھی، اتنی اچھی اے آئی تصویر بنائی ہوئی تھی، جس میں میں بہت اچھا دولہا لگ رہا تھا، انہوں نے ہمیں بہت خوبصورت دولہا اور دلہن بنا دیا۔

    توثیق حیدر نے یوٹیوبرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے ہماری اس جھوٹی خبر سے دو لاکھ روپے کما لیے ہیں تو مہربانی کر کے ہمیں پچاس ہزار روپے سلامی کے بھیج دیں، یہ ایک اچھا کاروباری سودا ہو سکتا ہے۔

    اس کے بعد فرح سعدیہ نے سنجیدہ انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی افواہیں ان کے خاندانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہیں، ہماری اپنی فیملیز ہیں، بچے اور والدین ہیں، جب ایسی خبریں پھیلتی ہیں تو لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں، یہ مناسب نہیں ہے، وہ اس طرح کی باتوں سے خوش نہیں ہیں اور لوگ دوسروں کی زندگیوں کے بجائے اپنی زندگیوں پر توجہ دیں-

    فرح سعدیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ دونوں اکیلے یعنی سنگل ہیں اور خوش ہیں، ہم دونوں صرف اچھے دوست ہیں اور ہمیشہ دوست ہی رہیں گے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہیں اور یہی ہماری حقیقت ہے، اور اے آئی کے ذریعے ایسی جعلی تصاویر بنانے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنا وقت کسی زیادہ مثبت اور تعمیری کام میں صرف کریں، توثیق حیدر نے کہا کہ انہوں نے سنگل رہ کر اور فرح نے شادی کر کے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ دونوں فنکار پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے طویل عرصے سے وابستہ ہیں اور اسلام آباد سینٹر میں اپنے مارننگ شوز اور معلوماتی پروگرامز کے باعث پہچانے جاتے ہیں، دونوں نے ڈراموں میں بھی مختلف کردار ادا کیے ہیں اور آج کل مختلف ٹی وی سیریلز میں نظر آ رہے ہیں توثیق حیدر پاکستان کے معروف ٹی وی اور ریڈیو براڈکاسٹرز میں شمار ہوتے ہیں انہوں نے 1987 میں ریڈیو پاکستان سے بطور نیوز کاسٹر اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور ملک کے پہلے ایف ایم ریڈیو کی ابتدائی آواز بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ٹی وی میزبانی اور اداکاری کے میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

  • 
اداکارہ مریم مائیکل کا کم عمری کی شادی اور طلاق سے متعلق انکشاف

    
اداکارہ مریم مائیکل کا کم عمری کی شادی اور طلاق سے متعلق انکشاف

    ‎پاکستانی اداکارہ اور ماڈل مریم مائیکل نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی شادی صرف 17 سال کی عمر میں ہوئی تھی، تاہم یہ رشتہ دو سال بعد ختم ہوگیا اور 19 سال کی عمر میں ان کی طلاق ہوگئی۔
    ‎اداکارہ نے فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام میں اپنی زندگی کے اس باب پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی برسوں تک انہوں نے اس معاملے کو نجی رکھا، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ خاموشی اکثر معاشرے میں موجود شرمندگی کے احساس کو مزید تقویت دیتی ہے۔
    ‎مریم مائیکل نے واضح کیا کہ اپنی کہانی بیان کرنے کا مقصد ہمدردی یا توجہ حاصل کرنا نہیں بلکہ طلاق سے متعلق معاشرتی رویوں پر گفتگو کو معمول کا حصہ بنانا ہے، تاکہ ایسے حالات سے گزرنے والے افراد خود کو تنہا یا شرمندہ محسوس نہ کریں۔
    ‎انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ زندگی کے ہر مرحلے کو قبول کرنا ضروری ہے اور ماضی کے تجربات انسان کی شخصیت اور مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کو اپنی زندگی کے فیصلوں اور تجربات کے بارے میں بلا جھجھک بات کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
    ‎اداکارہ کی اس پوسٹ کو سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، جہاں کئی افراد نے ان کی ہمت اور کھلے انداز میں اپنی زندگی کے تجربات بیان کرنے کو مثبت قدم قرار دیا۔

  • حالات نے مجبور کیا تو  حالیہ واقعات کی مکمل حقیقت اور شواہد عوام کے سامنے لے آؤں گی،مومنہ اقبال

    حالات نے مجبور کیا تو حالیہ واقعات کی مکمل حقیقت اور شواہد عوام کے سامنے لے آؤں گی،مومنہ اقبال

    اداکارہ مومنہ اقبال نےعندیہ دیا ہے کہ اگر حالات نے مجبور کیا تو میں حالیہ واقعات کی مکمل حقیقت اور شواہد عوام کے سامنے لے آؤں گی۔

    اداکارہ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان شئیر کیا اداکارہ نے اپنے بیان میں کسی فرد یا واقعے کا نام نہیں لیا، تاہم یہ ضرور اشارہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ تمام حقائق سامنے لے آئیں گی، اپنی بہن رمشا اقبال کے بیان کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ گزشتہ چند برسوں میں میں اور میرا خاندان بے شمار مشکلات سے گزرا ہے میں نے کئی ناانصافیوں کے باوجود خاموشی اختیار کیے رکھی کیونکہ میں اپنی ذاتی زندگی کو عوامی تماشہ نہیں بنانا چاہتی تھی۔

    انہوں نے اپنے والد کے 2 سال قبل انتقال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے جانے کے بعد سے خاندان مسلسل آزمائشوں اور مشکل حالات کا سامنا کر رہا ہے، اداکارہ نے بعض نامعلوم افراد کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کتنے لوگوں کو اپنے اثر و رسوخ میں لا سکتے ہیں،وقت آنے پر حقیقت خود سامنے آ جائے گی اور مجھے اُمید ہے کہ تمام شواہد عوام کے سامنے پیش کرنے کی نوبت نہیں آئے گی، ایک ایک کا بتاؤں گی پھر، ان شاء اللہ، میرا گواہ اللہ ہے۔