ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی ایرانی سازش سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹ دراصل ایک دھوکہ اور ڈرامہ تھی، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو ناکام بنانا تھا۔
’مڈل ایسٹ آئی‘ کے مطابق، گزشتہ ماہ 8جولائی کو انقرہ کے ایئرپورٹ پر اچانک سیکیورٹی کی غیر معمولی تعیناتی نے سب کو حیران کر دیا تھا جہاں صدر ٹرمپ کا طیارہ ائیر فورس ون کھڑا تھاسیکیورٹی کے ان سخت ترین انتظامات کے دوران امریکی حکام نے ترک حکام کو بتایا کہ انہیں اسرائیل سے ایک خفیہ رپورٹ ملی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ایرانی خفیہ یونٹ کندھے پر رکھ کر مارے جانے والے میزائلوں کی مدد سے ایئرپورٹ کے قریب ٹرمپ کے نئے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اس رپورٹ کے بعد امریکی خفیہ ایجنسی ’سیکریٹ سروس‘ نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات تبدیل کیے ٹرمپ کی روانگی کو ایک دور دراز سویلین ایئرپورٹ پر منتقل کیا گیا اور نئے طیارے کے بجائے پرانے ائیر فورس ون کو لایا گیا کیونکہ اس میں فضائی دفاعی نظام موجود تھا۔
امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق، سیکریٹ سروس نے ٹرمپ کو خفیہ طور پر پرانے ائیر فورس ون سے نکال کر کھانے پینے کا سامان سپلائی کرنے والی گاڑی میں منتقل کیا اور وہاں سے دوسرے امریکی طیارے سی-32 میں پہنچایا۔
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق، ایک ترک عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی حکام نے آخری منٹ پر پروازوں کی اجازت مانگی جس سے انقرہ کو اندازہ ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے،اس سے قبل جولائی اور نومبر 2024 میں بھی پاکستانی شہری آصف مرچنٹ اور افغان شہری فرہاد شاکری پر ایران کے لیے ٹرمپ پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزامات لگ چکے تھے، تاہم ایران نے ہمیشہ ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ترک حکام کا اب ماننا ہے کہ اسرائیل کی یہ رپورٹ ایک سوچی سمجھی چال تھی کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم امن معاہدے پر بات چیت کر رہے تھے۔
اجلاس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات میں ٹرمپ نے بار بار کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو چکی ہے اور وہ مذاکرات کے حوالے سے پرامید ہیں، جو کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ایجنڈے کے بالکل خلاف تھا کیونکہ وہ ایران کی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں اور ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی مہم چلانا چاہتے تھے،اس کے علاوہ ٹرمپ نے ترکیہ پر لگی پابندیاں ہٹانے اور ایف-35 طیارے بیچنے کا اشارہ بھی دیا تھا، جس کی اسرائیل ہمیشہ سے مخالفت کرتا رہا ہے۔
ایک ترک عہدیدار نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ یقیناً ہم نے رپورٹ کو بہت سنجیدگی سے لیا اور اپنے امریکی شراکت داروں کی پوری مدد کی، لیکن ہمارے لیے یہ بالکل واضح تھا کہ یہ رپورٹ کسی صورت سچی نہیں ہو سکتی، انقرہ جیسے سخت سیکیورٹی والے دارالحکومت میں اتنے بڑے میزائل پہنچانا اور ایسا حملہ کرنا ممکن ہی نہیں تھا، اور ایران کبھی بھی ترکیہ کے ساتھ اپنے پرامن تعلقات خراب کرنے کا خطرہ نہیں مول لے سکتا۔
