Baaghi TV

جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں، اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کے لیے خوفناک ترین منصوبہ

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کی ہائی سیکیورٹی جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں بنانے کا ایک انتہائی متنازع اور خوفناک منصوبہ سامنے آیا ہے،جبکہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پہلا بڑا قانونی قدم اٹھا لیا ہے اس اقدام کا مقصد قیدیوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے ایک ناقا بلِ تسخیر حفاظتی دیوار تیار کرنا ہے-

اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی، ایتمار بین گویر، نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باقاعدہ قانونی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے اس منصوبے پر عمل درآمد کے ذریعے جیلوں کے ارد گرد کا ماحول انتہائی سخت اور غیر معمولی بنا دیا جائے گا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ ہولناک منصوبہ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند وزیرِ داخلہ امور ’ایتمار بن گویر‘ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جس کی راہ میں حائل سب سے بڑی قانونی رکاوٹ اب دور کر دی گئی ہے اسرائیلی وزیرِ ماحولیات ایڈتھ سلمان نے ایک خصوصی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت مگرمچھوں کو ‘محفوظ جنگلی حیات’ کی فہرست سے نکال کر ‘زیرِ انتظام جنگلی جانوروں’ کا درجہ دے دیا گیا ہے، اس اہم قانونی تبدیلی کے بعد اب اسرائیل کی محکمہ جیل خانہ جا ت سمیت کوئی بھی سرکاری اتھارٹی مخصوص شرائط کے تحت مگرمچھوں کو اپنی تنصیبات میں رکھ سکے گی، اس سے قبل قا نون کے مطابق مگرمچھ صرف لا ئسنس یافتہ چڑیا گھروں میں ہی رکھے جا سکتے تھے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی محکمہ جیل خانہ جات نے اس منصوبے (جسے عبرانی میڈیا میں کروکوڈائیل پریزن کا نام دیا گیا ہے) پر کام شروع کر دیا ہے جیل حکام نے مگرمچھوں کی دیکھ بھال اور ان کو سنبھالنے کے طریقے سیکھنے کے لیے چڑیا گھروں کے دورے بھی شروع کر دیے ہیں۔

حکام کا ماننا ہے کہ جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں بنانے سے نہ صرف سیکیورٹی ناقابلِ تسخیر ہو جائے گی بلکہ انسانی گارڈز پر آنے والے اخراجا ت میں بھی واضع کمی آئے گی ایک اندازے کے مطابق ایک چھوٹے مگرمچھ کی قیمت لگ بھگ 8,000 ڈالر جبکہ بالغ مگرمچھ کی قیمت 20,000 ڈالر تک ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل کی مختلف جیلوں میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 9,500 فلسطینی قید ہیں انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیمو ں کی رپورٹس کے مطابق ان قیدیوں کو پہلے ہی بدترین حالات، تشدد، بھوک اور طبی لاپرواہی کا سامنا ہےجس کی وجہ سے درجنوں قیدی بیرکوں میں دم توڑ چکے ہیں اس نئے منصوبے کے سامنے آنے کے بعد تاحال اسرائیلی محکمہ جیل خانہ جات نے باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

More posts