امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے بعد اب صدر ٹرمپ کے اعزاز میں سرکاری تقریب سے قبل گفتگو کرتے ہوئے شی جن پنگ اور صدر ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہیں مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد بیجنگ کے ’گریٹ ہال آف پیپل‘ میں ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے آغاز پر چینی صدر شی جن پنگ نے ٹرمپ کے دورۂ چین کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدرٹرمپ کےساتھ تمام معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، چین اور امریکا مل کر ترقی کے منازل طے کرسکتے ہیں۔
شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کی ’ری جوینیشن آف چائنہ‘ اور ’میگ امریکا گریٹ اگین‘ پالیسی ایک ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں، چین اور امریکا کے تعلقات دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی کامیابی کےلیے مدد کرنی چاہیئے،دونوں ممالک کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے اور ان تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا عالمی مفاد میں ہے
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ کو اپنا دوست قرار دیا اور کہا کہ دونوں کے درمیان انتہائی مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہےامریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، انہوں نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کو 24 ستمبر کو امریکا آنے کی دعوت بھی دی-
رائٹرز کے مطابق اس موقع پر گفتگو کے دوران ٹرمپ کا رویہ بالکل الگ تھا، ان کی تقریر نسبتاً روایتی، محتاط اور اسکرپٹڈ انداز میں تھی، جو ان کے عمومی غیر رسمی اور براہِ راست طرزِ خطاب کے برعکس تھی۔
