عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ایل نینو آئندہ چند ماہ میں مزید شدت اختیار کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کے خطرات میں اضافہ متوقع ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو پوری طرح فعال ہوچکا ہے اور آنے والے مہینوں میں اس کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تنظیم کے تازہ ترین جائزے کے مطابق ایل نینو کے فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے، جس کے موسمی اثرات 2027 تک جاری رہ سکتے ہیں۔
WMO کے مطابق استوائی بحرالکاہل میں سمندری درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، جس کے باعث ایل نینو 2026 کے اختتام تک انتہائی مضبوط سطح تک پہنچ سکتا ہے،مرکزی و مشرقی استوائی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت کی پیمائش کرنے والے ’نینو 3.4‘ انڈیکس کے مطابق مئی سے جولائی 2026 کے دوران درجہ حرارت معمول سے اوسطاً 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا، جبکہ جولائی میں یہ فرق 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ جولائی کے آخر سے اگست کے وسط تک ہفتہ وار درجہ حرارت معمول سے 2.2 سے 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو نے کہا ہے کہ خشک سالی اور سیلاب پہلے ہی بڑے پیمانے پر نقصان اور خلل کا باعث بن رہے ہیں، جبکہ ایل نینو کی شدت بڑھنے کے ساتھ ان کے اثرات میں مزید اضافہ متوقع ہے اس غیر معمولی ایل نینو کے لیے غیر معمولی تیاری اور مؤثر ردعمل کی ضرورت ہے، جس کے لیے WMO قومی موسمیاتی اور ہائیڈرولوجیکل اداروں کے ساتھ مل کر ابتدائی انتباہ اور ہنگامی تیاری کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔
WMO کے مطابق ستمبر سے نومبر 2026 کے دوران دنیا کے تقریباً تمام زمینی علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا امکان ہے، جبکہ بارشوں کے انداز بھی طاقتور ایل نینو سے متاثر ہوسکتے ہیں، تاہم کسی خطے میں ایل نینو کے اثرات کی شدت صرف اس کی اپنی طاقت سے طے نہیں ہوتی بلکہ بھارتی اور بحر اوقیانوس کے سمندروں کی صورتحال سمیت دیگر موسمی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تنظیم نے واضح کیا کہ ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے اور یہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا نہیں ہوتا۔
