Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران شیخ عہدے سے مستعفی

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران شیخ عہدے سے مستعفی

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    انہوں نے اپنا استعفیٰ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 206 کے تحت صدرِ مملکت کو ارسال کر دیا ہے،استعفے کے متن کے مطابق جسٹس راحیل کامران شیخ نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے قانونی اسکالرشپ، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدالتی امور میں وسیع پیمانے پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ا

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران شیخ عہدے سے مستعفی

    ن کا کہنا تھا کہ ایک فقہی (Jurist) کے طور پر اپنی مزید پیشہ ورانہ بالیدگی، قانون کی بالادستی اور انصاف تک عوام کی رسائی میں بہتر کردار ادا کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے، لاہور ہائیکورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دینا اور اپنے حلف و ضمیر کے مطابق انصاف کی فراہمی میں حصہ ڈالنا ان کے لیے انتہائی اعزاز اور باعثِ فخر رہا، بینچ پر گزرے سال ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا سب سے اہم اور اطمینان بخش دور تھے۔

    جسٹس راحیل کامران شیخ نے آئین اور قانون کی بالادستی سے اپنی دائمی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے سینیئر ساتھی ججز کی رہنمائی اور حکمتِ عملی پر ان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ عملے کی محنت اور تعاون کی بھی تعریف کی۔

    پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر دیئے

  • بھارتی پائلٹ ابھینندن نے نجی ائیر لائن جوائن کرلی

    بھارتی پائلٹ ابھینندن نے نجی ائیر لائن جوائن کرلی

    فروری 2019 میں پاک بھارت فضائی معرکے کے دوران پاکستان میں گرفتار ہونے والے انڈین ایئر فورس (IAF) کے سابق گروپ کیپٹن اور ویر چکر ایوارڈ یافتہ پائلٹ ابھینندن ورتھمان نے بھارتی فضائیہ سے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ (اسٹیپ ڈاؤن) لے لی ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھینندن نے گوا کی ایک نجی علاقائی ایئر لائن ‘FLY91‘ میں بطور کمرشل پائلٹ شمولیت اختیار کر لی ہے،مطابق 43 سالہ ابھینندن نے اسی سال مارچ کے اختتام پر بھارتی فضائیہ چھوڑی تھی اور اگست کے مہینے میں نجی ایئر لائن میں شامل ہوئے تاہم ‘FLY91’ کے ترجمان نے کسی بھی ملازم کی ذاتی معلومات فراہم کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران شیخ عہدے سے مستعفی

    یاد رہے کہ مارچ 2024 میں قائم ہونے والی یہ ایئر لائن ‘ATR 72-600’ طیاروں کا فلیٹ چلاتی ہے اور اس کے اہم مراکز گوا اور حیدرآباد میں واقع ہیں۔

    فروری 2019 میں پلوامہ واقعے کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے دوران بھارتی ایئر فورس کے ونگ کمانڈر (موجودہ رینک گروپ کیپٹن) ابھینندن ورتھمان کا میگ 21 (MiG-21) طیارہ پاکستان ایئر فورس کے ساتھ فضائی جھڑپ میں تباہ ہو گیا تھا ابھینندن نے پیراشوٹ کے ذریعے پاکستانی حدود میں لینڈ کیا جہاں مقامی لوگوں اور پاکستانی فوج نے انہیں حراست میں لے لیا تھا، تقریباً 3 دن تک پاکستان کی تحویل میں رہنے کے بعد پاکستان کی جا نب سے خیر سگالی کے جذبے کے تحت ابھینندن کو 1 مارچ 2019 کی رات واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

    5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی ،گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ

  • 5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی ،گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ

    5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی ،گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ

    محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی اور خطہ پوٹھوہار میں 5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔

    اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت گرد و نواح میں رات گئے موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا،محکمہ موسمیات کے مطابق مسلسل اور تیز بارشوں کے باعث جڑواں شہروں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی تک محدود نہیں رہے گا آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 6 ستمبر تک جبکہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 5 ستمبر تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جن میں راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال، اٹک، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، قصور اور اوکاڑہ شامل ہیں۔

    پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر دیئے

    ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ متعلقہ اداروں کو نشیبی علاقوں کی نگرانی، نالوں کی صفائی اور بارش کے پانی کی فوری نکاسی یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں پہاڑی اور سیاحتی علاقوں کا رخ کرنے والے شہریوں کو بھی موسم کی صورتحال مدنظر رکھتے ہوئے سفر کی منصوبہ بندی کرنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    ملک میں جاری مون سون کے شدید اسپیل اور غیر معمولی حد تک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث شمالی علاقہ جات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور طغیانی کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے انتظامی اداروں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے-

    امریکا کی ٹاپ پارٹی یونیورسٹیوں کی فہرست جاری، نیویارک کی صرف دو جامعات شامل

    این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گلگت بلتستان کے اضلاع غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، دیامر، استور، اسکردو، گانچھے اور کھرمنگ اور آزاد کشمیر میں وادی نیلم اور گردو نواح کے ندی نالوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے،علاوہ ازیں صوبہ خیبر پختونخوا میں چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان کے پہاڑی علاقوں کو بھی حساس قرار دیا گیا، ان علاقوں میں سیلابی صورتحال اور سڑکیں بند ہونے کا خدشہ ہے۔

    گلگت بلتستان، سوات اور مری جانے والے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سفر سے قبل مقامی انتظامیہ یا این ڈی ایم اے ہیلپ لائن (1129) سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،حساس علاقوں میں امدادی ٹیموں، بھاری مشینری اور ہنگامی ادویات کا انتظام مکمل کر لیا گیا ہے تاکہ سڑکیں بلاک ہونے کی صورت میں فوری بحالی ممکن بنائی جا سکے، تابکار حرارت اور شدید بارشوں کا ایک ساتھ ملنا پہاڑی جھیلوں کے بند توڑنے کا باعث بنتا ہے، جس سے چند منٹوں میں لاکھوں کیوسک پانی نچلے علاقوں کی طرف بہتا ہے۔

    نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک اے آئی کے استعمال پر پابندی

  • پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر دیئے

    پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر دیئے

    پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر دیئے،جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی بانڈ ہے-

    وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان نے دو ٹرینچز میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ جاری کر دیئے ، پاکستان کو 6 ارب ڈالر کے یورو بانڈ جاری کرنے کی پیشکشیں موصول ہوئی ہیں، ملک کو پہلی بار 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ یکمشت جاری کرنے کا موقع ملا، یورو بانڈ کا کامیاب اجرا پاکستان پر عالمی اعتماد کا عکاس ہے، پا کستان کے قرض واپس کرنے کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کی وجہ سے یورو بانڈ کا کامیاب اجرا ممکن ہوا۔

    پاکستان نے ساڑھے پانچ سالہ یورو بانڈ سے 1.75 ارب ڈالر حاصل کیے، جس پر سود کی شرح 7.50 فیصد ہو گی جبکہ 10 سالہ یورو بانڈ سے پاکستان نے 1.25 ارب ڈالر حاصل کیے، جس پر 7.90 فیصد سود ادا کرنا پڑے گا، بانڈز میں عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی اور طلب جاری رقم سے تقریباً دوگنا رہی۔

    سرعام ہوائی فائرنگ کرنے والا گرفتار،پسٹل برآمد،مقدمہ درج

    پہلے پانڈا بانڈ کی کامیابی سے اجرا کے بعد پاکستان نے نئے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت پہلی بار بانڈ جاری کیا، جو عالمی کیپیٹل مارکیٹس سے مختلف ذرائع کے ذریعے مالی معاونت حاصل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔

    اس اقدام کا مقصد صرف مزید قرض حاصل کرنا نہیں بلکہ پاکستان کی وسیع تر حکمت عملی کے تحت قرضوں کے مؤثر اور فعال انتظام کو یقینی بنانا ہے،اس حکمت عملی میں مالی معاونت کے ذرائع کو متنوع بنانا، قرض کی مدت بڑھانا، ری فنانسنگ اور قرضوں کی تجدید سے وابستہ خطرات کم کرنا اور معاشی طور پر فا ئدہ مند ہونے کی صورت میں قلیل مدتی اور مہنگے قرضوں کی جگہ طویل مدتی اور مسابقتی شرح پر حاصل کی گئی فنانسنگ لانا شامل ہے۔

    نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک اے آئی کے استعمال پر پابندی

    یورو بانڈ بنیادی طور پر ایسا بانڈ ہوتا ہے جسے کوئی حکومت یا ادارہ اپنی مقامی کرنسی کے بجائے کسی غیر ملکی کرنسی میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے جاری کرتا ہے پاکستان کے معاملے میں یہ بانڈ امریکی ڈالر میں جاری کیا جاتا ہے حکومتیں یورو بانڈز کے ذریعے عالمی سرمایہ منڈیوں سے براہ راست مالی وسائل حاصل کر سکتی ہیں، جس سے انہیں مقامی ذرائع کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری تک رسائی ملتی ہے۔

    گزشتہ روز مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے بتایا تھا کہ پاکستان کی جانب سے 5 سالہ اور 10 سالہ مدت کے دو مختلف ڈالر بانڈز پر مشتمل ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ پیش کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں سے فنڈز حاصل کیے جائیں گے،یورو بانڈ کا اجرا پاکستان کی عالمی سرمایہ مارکیٹ تک دوبارہ رسائی کی جانب اہم قدم ہے۔ بانڈ کے اجرا کا فیصلہ عالمی مارکیٹ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہےمعاشی استحکام اور مضبوط میکرو اکنامک اشاریوں کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ یورو بانڈ کا اجرا عالمی مالیاتی نظام میں پاکستان کی دوبارہ مؤثر شمولیت کی جانب اہم پیشرفت ہے۔

  • ایران نے حملہ کیا تو ’بھرپور طاقت‘ کے ساتھ جوابی کارروائی کریں گے،اسرائیل

    ایران نے حملہ کیا تو ’بھرپور طاقت‘ کے ساتھ جوابی کارروائی کریں گے،اسرائیل

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ’بھرپور طاقت‘ کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گا۔

    اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج یہودیوں کے اہم مذہبی تہواروں کے سیزن کے دوران ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے لیے تیار ہے۔ یہ مذہبی تہوار ستمبر کے وسط میں شروع ہونے والے ہیں،فی الحال ایران خطے میں مختلف مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم اسرائیل کو بھی ممکنہ ایرانی حملے کا خد شہ ہے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج دفاعی طور پر مکمل تیار ہے۔

    اسرائیل کاٹز نے واضح کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل کسی دوسرے ملک کی مدد یا اجازت کا انتظار کیے بغیر خود کارروائی کرے گا ان کے مطابق اسرائیلی جنگی طیارے حملے کے لیے تیار ہیں-

    اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب ایرانی فورسز نے خطے کے مختلف مقامات پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کی ہیں،تاہم اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

  • انسانیت موسمیاتی تباہی سے بچنے کی حد سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے،سیکرٹری اقوام متحدہ

    انسانیت موسمیاتی تباہی سے بچنے کی حد سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے،سیکرٹری اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ کے مطابق دنیا موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات سے بچنے کے لیے مقرر کردہ 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد جلد عبور کر جائے گی-

    اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کوئلے، تیل اور گیس کے مسلسل استعمال سے زمین کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد عبور کرنے والا ہےاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ انسانیت موسمیاتی تباہی سے بچنے کی حد سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق دنیا اس وقت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 1.4 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہوچکی ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا ہے کہ 1.5 ڈگری کی حد آئندہ چند برسوں میں عبور ہوجائے گی موجودہ حکومتی پالیسیوں کے تحت 2100 تک عالمی درجہ حرارت میں تقریباً 2.6 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ موسمیاتی اہداف پر انتہائی مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تو درجہ حرارت صدی کے وسط میں تقریباً 1.8 ڈگری پر پہنچ کر بلند ترین سطح حاصل کرسکتا ہے۔‘

    اقوام متحدہ نے اب ’اوور شوٹ‘ حکمت عملی تجویز کی ہے، جس کے تحت پہلے درجہ حرارت میں اضافے کی بلند ترین سطح کو محدود کیا جائے گا اور پھر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور فضا سے کاربن نکالنے کے ذریعے عالمی درجہ حرارت کو بتدریج 1.5 ڈگری سے نیچے لانے کی کوشش کی جائے گی،اس مرحلے میں دنیا کو کئی دہائیوں تک شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، سمندر کی سطح میں اضافے، برفانی تودوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے مسائل کا سامنا رہ سکتا ہے۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی سے خوراک کی پیداوار متاثر، پانی کی قلت میں اضافہ اور مزید اموات و بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ مرجانی چٹانوں سمیت کئی انواع کے معدوم ہونے کا خطرہ بھی بڑھے گا گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹیکا کی برفانی چادروں کا نقصان، ایمیزون کے جنگلات کا خاتمہ اور بحرِ اوقیانوس کے اس نظام میں خلل جو یورپ کے بیشتر حصے کو نسبتاً گرم رکھتا ہے، ممکنہ خطرناک ’ٹِپنگ پوائنٹس‘ میں شامل ہیں، سائنس دانوں کے مطابق 1.5 ڈگری کی حد کوئی ایسی ’موسمیاتی کھائی‘ نہیں جس کے بعد سب کچھ ختم ہوجائے، بلکہ ہر ایک ڈگری کا معمولی حصہ بھی بچانا موسمیاتی نقصانات کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔

  • عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کا تسلسل برقرار ہے۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 113ڈالر کی کمی سے 4ہزار 315ڈالر کی سطح پر آگئی ہے جس کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی بدھ کو فی تولہ سونے کی قیمت 11ہزار 300روپے کی بڑی کی کمی سے 4لاکھ 54 ہزار 036روپے کی سطح پر آگئی،اسی طرح ی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 9ہزار 688روپے کی کمی سے 3لاکھ 89ہزار 262 روپے کی سطح پر آگئی۔

    علاوہ ازیں عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2ڈالر 70سینٹس کی کمی سے 63ڈالر 80سینٹس کی سطح پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 270روپے کی کمی سے 6ہزار 859روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 231روپے کی کمی سے 5ہزار 880روپے کی سطح پر آگئی۔

  • ڈسٹرکٹ اور ڈویژن بڑھ سکتے ہیں تو صوبے کیوں نہیں بڑھ سکتے؟،خالد مقبول

    ڈسٹرکٹ اور ڈویژن بڑھ سکتے ہیں تو صوبے کیوں نہیں بڑھ سکتے؟،خالد مقبول

    ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہےکہ سندھو دیش کا نعرہ غداری نہیں لیکن سندھ میں نیا صوبہ بنانا غداری کہا جاتا ہے۔

    ڈیلس میں اسٹینڈ ود پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کہا کہ پاکستان میں آبادی کے ساتھ نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے، لسانی نہیں، انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بننے چاہئیں، ڈسٹرکٹ اور ڈویژن بڑھ سکتے ہیں تو صوبے کیوں نہیں بڑھ سکتے؟ ،سندھو دیش کا نعرہ غداری نہیں، سندھ میں نیا صوبہ بنانا غداری کہا جاتا ہے موجودہ 4 صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں، پاکستان کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ضرورت ہے اور یہی ملک میں پولرائزیشن ختم کرنے کا راستہ ہے صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینا درست نہیں، سندھ میں نئے صوبے کا مطالبہ غداری قرار دیا جاتا ہے جبکہ ملک کی تقسیم کو غداری نہیں کہا گیا۔

    کراچی کے حوالے سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 2008ء تک کراچی دنیا کے 10 ابھرتے ہوئے شہروں میں شمار ہوتا تھا اور پورا پاکستان کراچی کے بلدیاتی نظام کی طرف دیکھ رہا تھا تمام حالات کے باوجود کراچی قومی بجٹ کا 60 فیصد فراہم کر رہا ہے جبکہ سندھ کے بجٹ کا 97 فیصد کراچی دیتا ہے، حیدر آباد، میرپورخاص، نوابشاہ اور سکھر مل کر باقی حصہ فراہم کرتے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ کراچی قومی اور صوبائی معیشت میں سب سے بڑا حصہ دیتا ہے، کراچی کے وسائل پر کراچی کا اختیار نہ ہونے کے برابر ہے، سندھ میں ایک طبقہ بجٹ بناتا ہے اور دوسرا اسے خرچ کرتا ہے جب کہ مردم شماری میں کراچی کے ساتھ ناانصافی ہوئی، اکیلا لیاقت آباد اتنا جی ایس ٹی دیتا ہے جتنا پاکستان کا دوسرا بڑا شہر۔

    مردم شماری پر سوال اٹھاتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گزشتہ 30 برس میں سب سے بڑی شہری آبادی میں اضافہ کراچی میں ہوا لیکن کاغذا ت میں کراچی کی آبادی میں 90 فیصد اضافہ دکھایا گیا جبکہ سندھ کے ایک اور شہر کی آبادی میں 780 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا جو ریاست ایمانداری سے مردم شماری نہیں کروا سکتی وہ کیا ایمانداری سے مردم شناسی کر سکتی ہے؟ تعصب سچ نہیں ہوتا لیکن سچ بھی تعصب نہیں ہوتا، اعداد و شمار درست ہوں تو انہیں تعصب قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    کراچی کے حالات کے حوالے سے خالد مقبول صدیقی نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں شہر کے حالات جان بوجھ کر خراب کیے گئے تاکہ سرمایہ ملک کے دیگر حصوں میں منتقل ہو، تاہم یہ سرمایہ بنگلا دیش، ملائیشیا اور افریقی ممالک تک منتقل ہو گیاکراچی والوں کا قصور بھی ہے، ان کا لہجہ معذرت خواہانہ ہے اور وہ اپنی شناخت پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔

    تعلیم سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس کا جواب صوبائی وزراء ہی دے سکتے ہیں تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ وزارت ہے کیوں؟ایم کیو ایم چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ ٹریڈ ڈیفیسٹ سے زیادہ ٹرسٹ ڈیفیسٹ ہے، آئی ایم ایف حکومت بچاسکتا ہے، ملک نہیں، 18یں ترمیم نے اختیارات وفاق سے صوبوں تک پہنچائے،عوام تک نہیں، پاکستان طاقت سے نہیں، انصاف سے قائم رہ سکتا ہے-

  • میئر لندن صادق خان پر بغیر ٹیکس گاڑی رکھنے کے مقدمے میں جرمانہ عائد

    میئر لندن صادق خان پر بغیر ٹیکس گاڑی رکھنے کے مقدمے میں جرمانہ عائد

    لندن کے میئر لارڈ صادق خان پر بغیر ٹیکس گاڑی رکھنے کے مقدمے میں جرمانہ عائد ہوگیا۔

    ڈی وی ایل اے نے 24 سال پرانی نسان مائیکرا کا ٹیکس نہ دینے پر مقدمہ دائر کیا تھا، مجسٹریٹ نے صادق خان کو ان کی غیر موجودگی میں قصوروار قرار دیا،عدالت نے لارڈ صادق خان کو 220 پاؤنڈ جرمانہ اور 85 پاؤنڈ عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا ہے صادق خان کو گاڑی کے واجب الادا ٹیکس کی مد میں 35.84 پاؤنڈ بھی دینا ہوں گے۔

    انہیں گزشتہ ماہ ایک ایسے نظام کے تحت قصوروار ٹھہرایا گیا جسے ناقدین "کنویئر بیلٹ جسٹس” (یعنی مشینی انداز میں تیزی سے نمٹایا جانے والا انصاف) قرار دیتے ہیں؛ اس نظام میں مجسٹریٹ روزانہ سینکڑوں مقدمات کا فیصلہ کرتے ہیں اور بعض اوقات ہر مقدمے پر ایک منٹ سے بھی کم وقت صرف کرتے ہیں۔

    سٹی ہال حکام کا کہنا ہے متنازع گاڑی نہ صادق خان اور نہ ہی ٹرانسپورٹ فار لندن کی ملکیت ہے، ڈی وی ایل اے نے مقدمے اور سزا کے حالات کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

    میئر کو ان گاڑی مالکان کے احتجاج کا سامنا رہا ہے جو پورے لندن میں ‘الٹرا لو ایمیشن زون’ (Ulez) کے دائرہ کار کو بڑھانے پر برہم ہیں۔ ان مظاہرین نے گاڑیاں صادق خان کے نام پر رجسٹر کروانے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ بظاہر انہیں 12.50 پاؤنڈ کے یومیہ چارج کی ادائیگی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔

    یہ قانونی کارروائی ‘ڈرائیور اینڈ وہیکل لائسنسنگ ایجنسی’ (DVLA) کی جانب سے کی گئی تھی،جو ڈرائیوروں کا ڈیٹا بیس رکھنے والا سرکاری ادارہ ہےاور اس نے صادق خان پر الزام عائد کیا تھا کہ 24 جنوری کو جب اس گاڑی کو بغیر ٹیکس کے دیکھا گیا تو وہ اس کے مالک (یا ذمہ دار) تھے۔

    عدالتی دستاویز کے مطابق خطوط صادق خان کے دفتر کے بجائے گورڈن ریمزے کے ریسٹورنٹ بھیجے گئے، صادق خان کو جرمانے کی سزا متنازع سنگل جسٹس پروسیجر کے تحت سنائی گئی، سنگل جسٹس پروسیجر میں مجسٹریٹ بند کمرے میں چھوٹےمقدمات کی سماعت کرتا ہے، معاملہ سامنے آنے کے بعد ڈی وی ایل اے نے ممکنہ غلط اندراج کی تحقیقات شروع کردیں۔

  • فیک ویڈیو کیس:دوران سماعت فلک جاوید کے وکیل اور عظمیٰ بخاری کے درمیان تلخ کلامی

    فیک ویڈیو کیس:دوران سماعت فلک جاوید کے وکیل اور عظمیٰ بخاری کے درمیان تلخ کلامی

    فیک ویڈیو کیس میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ضلع کچہری لاہور پہنچ گئیں، تاہم کیس کی مرکزی ملزمہ فلک جاوید عدالت میں پیش نہ ہوسکیں۔

    عظمیٰ بخاری نے جج نعیم وٹو کے روبرو پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرایا، انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس کیس میں ملزمہ نہیں بلکہ شکایت کنندہ ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، ان کی ایک جعلی ویڈیو بنا کر وائرل کی گئی، وہ اس معاملے کے باعث جس کرب سے گزری ہیں، اسے بیان نہیں کرسکتیں۔

    اس موقع پر جج نعیم وٹو نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے لیے ایک عورت کا احترام بہت ضروری ہے اور عدالتوں کے فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے مقدمات کو کس طرح ڈیل کرتی ہیں، اس کیس میں تاخیر عدالتوں کی وجہ سے نہیں ہوئی، جبکہ تنقید بھی عدالتوں نے برداشت کی ہے۔

    دورانِ سماعت فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق اور عظمیٰ بخاری کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی،میاں علی اشفاق نے مؤقف اپنایا کہ پہلے ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا جائے، پھر کیس آگے بڑھے گا، جس پر عظمیٰ بخاری نے کہا: "آپ ڈکٹیٹر نہ بنیں، آواز نیچی کرکے بات کریں، جواب میں علی اشفاق بولے: "یہاں ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں۔”

    عدالت نے فلک جاوید کو پیش نہ کیے جانے پر جیل حکام کو انہیں 20 منٹ کے اندر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا، دوران سماعت عظمیٰ بخا ری نے کہا کہ ایک یوٹیوبر نے ٹوئٹ کیا کہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں، عدالت اس سے پوچھے کہ وارنٹ کب جاری ہوئے،عظمیٰ بخا ری نے عدالت میں موجود یوٹیوبر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پوچھا جائے کہ کیا ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے-

    اس پر یوٹیوبر نے کمرہ عدالت میں عظمیٰ بخاری سے معذرت کرلی،انہوں نے کہا کہ یہ ایک عورت کی عزت کا معاملہ ہے اور یہ کوئی عام سول کیس نہیں تھا،ان کے مطابق انہیں سکیورٹی خدشات بھی لاحق ہیں، اسی لیے انہوں نے عدالت سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کی استدعا کی تھی۔

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ فلک جاوید کے والدین کا وہ احترام کرتی ہیں، تاہم انہیں افسوس ہے کہ ان کے بارے میں کس طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے، اگر اسی طرح معاملات چلنے ہیں تو پھر عدالتوں کو بند کردینا چاہیے، اگر ایک وزیر کے ساتھ ایسا ہورہا ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا،بہت سے لوگ ان کے ساتھ عدالت آنا چاہتے تھے، تاہم انہوں نے انہیں منع کیا، کیونکہ وہ نہیں چاہتیں کہ دونوں جانب کے لوگ آمنے سامنے آئیں اور کوئی بدمزگی ہو-