Baaghi TV

افغانستان میں 75 فیصد امدادی اداروں نے خواتین کی ملازمت سے متعلق طالبان کی شرائط قبول کر لیں

taliban

افغانستان میں کام کرنے والے 75 فیصد امدادی اداروں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے خواتین کی ملازمت سے متعلق طالبان کی عائد کردہ شرائط قبول کر لی ہیں-

جینڈر اِن ہیومینیٹیرین ایکشن ورکنگ گروپ اور ہیومینیٹیرین ایکسیس ورکنگ گروپ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نئے سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان کے تمام 34 صوبوں میں کام کرنے والے 122 امدادی اداروں سے حاصل کردہ معلومات کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کی پابندیوں، بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی اور خواتین کی ملازمت پر عائد سخت شرائط نے امدادی شعبے کو شدید متاثر کیا ہے، سرو ے میں بتایا گیا کہ 56 فیصد اداروں نے فنڈنگ میں کمی کے باعث افغان خواتین ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا، جبکہ 46 فیصد اداروں نے کہا کہ خوا تین اب پہلے کی طرح دفاتر میں آ کر کام نہیں کر سکتیں۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ پابندیاں ہرات میں دیکھی گئیں، جہاں 36 فیصد اداروں نے سخت رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد کابل (31 فیصد)، ننگرہار (22 فیصد)، قندھار (20 فیصد) اور کنڑ (17 فیصد) کا نمبر آتا ہے 45 فیصد امدادی ادارے اب بھی مرد اور خواتین دونوں عملے کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ 16 فیصد خواتین ملازمین طالبان کی پابندیوں کے باعث گھروں سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 61 فیصد اداروں نے بتایا کہ خواتین ملازمین کو سرکاری یا امدادی کام کے سلسلے میں سفر کے دوران ایک مرد سرپرست (محرم) کا ساتھ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے 49 فیصد اداروں کے مطابق خواتین ملازمین طالبان کی نقل و حرکت اور لباس سے متعلق پابندیوں کے باعث شدید ذہنی دباؤ اور سیکیورٹی خدشات کا شکار ہیں بعض اداروں نے یہ بھی بتایا کہ کام پر جاتے ہوئے خواتین کو طالبان کی ’وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کے اہلکا ر روک کر پوچھ گچھ کرتے ہیں خواتین پر عائد پابندیوں سے سب سے زیادہ تعلیم اور صحت کے شعبے متاثر ہوئے ہیں، جہاں خواتین کی خدمات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن نے بھی خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی امداد میں مسلسل کمی کے باعث افغانستان سمیت بحران زدہ ممالک میں خواتین کی معاونت کرنے والی کئی تنظیمیں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔

More posts