وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عارف والا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سرکاری اسکولوں کو جدید تعلیمی اداروں میں تبدیل کر رہی ہے، جہاں غریب اور امیر کے بچوں کو یکساں سہولتیں اور مواقع میسر ہوں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عارف والا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ بارشوں کے موسم میں بچوں کو غیر محفوظ مقامات پر نہ بھیجیں،حالیہ دنوں میں ایک زیرِ تعمیر مکان کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جس کا انہیں بے حد دکھ ہے جب بھی کسی بچے کے نا لے، ٹرین یا کھلے مین ہول میں گرنے کی خبر سنتی ہوں تو شدید تکلیف ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو کھلے مین ہول بند کرنے کی ہدایات دے رہی ہے، تاہم بعض شرپسند عناصر رات کے وقت ان کے ڈھکن چرا لیتے ہیں، جس سے شہریوں خصوصاً بچوں کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے ان پر پنجاب کے 13 کروڑ عوام اور لاکھوں طلبہ کی ذمہ داری ہے، اسی لیے حکومت تعلیم اور طلبہ کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن بچوں کے پاس معیاری سفری سہولت نہیں، ان کے لیے گرین الیکٹرک بسوں کا دائرہ کار مسلسل بڑھایا جا رہا ہے تاکہ وہ محفوظ اور آرا م دہ سفر کر سکیں،وزیراعلیٰ نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ فخر سے کہیں کہ وہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ حکومت نے سرکاری اسکولوں میں بھی وہی سہولتیں فراہم کرنے کا عزم کیا ہے جو مہنگے نجی تعلیمی اداروں میں دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم سب سے بڑی برابری پیدا کرنے والی قوت ہے اور اعلیٰ تعلیم انسان کے لیے ترقی کے نئے راستے کھول دیتی ہے نواز شریف سکول آف ایمیننس میں داخلوں کے لیے غیرمعمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی، جہاں ایک ہزار نشستوں کے لیے پانچ پانچ ہزار طلبہ نے ٹیسٹ دیا ان اسکولوں میں ایک ڈی ایس پی کا بچہ بھی پڑھتا ہے اور ایک مزدور کا بچہ بھی، کیونکہ ٹیلنٹ کا تعلق دولت سے نہیں ہونا چاہیے۔
مریم نواز نے اعلان کیا کہ طلبہ کے لیے ایک لاکھ لیپ ٹاپ اور مزید 50 ہزار ہونہار اسکالرشپس دی جائیں گی، پنجاب بھر کے سرکاری اسکولوں میں 40 ارب روپے کی لاگت سے تمام بنیادی سہولتوں کی کمی دور کی جا رہی ہے، جن میں نئے کلاس رومز، فرنیچر، باتھ روم، صاف پانی، پنکھے اور دیگر ضروری سہو لتیں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت سائنس، ٹیکنالوجی، ریاضی، کمپیوٹر اور آئی ٹی لیبز قائم کر رہی ہے، جبکہ پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت کی لیبز بھی بنائی جا رہی ہیں تاکہ پنجاب کے طلبہ بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے بچوں کی طرح جدید علوم حاصل کر سکیں انہوں نے طلبہ کو مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور روبو ٹکس سیکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہی مہارتیں مستقبل میں کامیابی کی ضمانت ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اپنا بیٹا بھی سرکاری اسکول میں زیر تعلیم ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت سرکاری تعلیمی نظام پر اعتماد رکھتی ہےپنجاب میں تعلیم کے شعبے میں تبدیلی کا یہ صرف آغاز ہے اور جلد ہی صوبے بھر میں 300 جدید اسکول قائم کیے جائیں گے۔
