Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • انمول پنکی کیس :کراچی پولیس چیف کی سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ میں بڑے انکشاف

    انمول پنکی کیس :کراچی پولیس چیف کی سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ میں بڑے انکشاف

    کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ انمول عالمی منشیات ڈیلر رانا عاصم کیساتھ کام کر رہی ہے۔

    انمول پنکی کیس پر سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے پولیس چیف نے کہا کہ کراچی پولیس اور حساس ادارے لمبے عرصے سے اس کیس پر کام کر رہے تھے، پنکی 18 سال سے ڈرگ سپلائی کر رہی ہے ، وہ آن لائن نیٹ ورک اور بائیکیا رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ، 2018 سے کراچی میں بھی سپلائی جاری ہے،انمول کراچی کی ہے ، اس کی لاہور میں ڈرگ اسمگلر سے شادی ہوئی ہے ،انمول عالمی منشیات ڈیلر رانا عاصم کیساتھ کام کر رہی ہے۔

    آزاد خان نے کہا کہ کوکین ڈرگ سپلائی میں انمول کے دو بھائی اور خواتین کے علاوہ لاہور کے بڑے نام بھی انمول پنکی کیساتھ منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں، پنکی قتل کیس میں بھی ملوث ہے جس میں ریمانڈ نہیں ملا ، منشیات کی رقم آن لائن بھائیوں کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی تھی ، موبائل فون میں 860 غیر ملکیوں اور دیگر منشیات ڈیلرز کے نمبر موجود ہیں، پنکی کے موبائل سے بڑے ڈیلرز کے شواہد مل گئے ہیں۔

    کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ سندھ ،پنجاب ، خیبر پختونخوا کے منشیات ڈیلرز پنکی کیساتھ رابطے میں ہیں ، راجہ پرویز اشرف سے متعلق ایسی کوئی بات نہیں ، پنکی کے موبائل فون سے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیس آگے بڑھا رہے ہیں۔

  • سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی

    سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ہوئی ہے،پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 6800 روپے کمی ہو گئی ہے۔

    ملک میں فی تولہ سونا 6800 روپے کمی کے بعد 470,362 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 5830 روپے کمی کے بعد 403,269 روپے کا ہو گیا ہےاس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 369,667 روپے ہوگئی، جبکہ عالمی بازار میں سونا 68 ڈالر کمی کے بعد 4480 ڈالر فی اونس کا ہوگیا ہے۔

    اسی طرح، عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 1ڈالر 25سینٹس کی کمی سے 74ڈالر 90 سینٹس کی سطح پر آگئی،مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 125روپے کی کمی سے 7ہزار 974روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 107روپے کی کمی سے 6ہزار 836روپے کی سطح پر آگئی۔

  • خیبرپختونخوا کی حکمران سیاسی جماعت اور فتنۃ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب،2 خوارجیوں کی آڈیو لیک

    خیبرپختونخوا کی حکمران سیاسی جماعت اور فتنۃ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب،2 خوارجیوں کی آڈیو لیک

    خیبرپختونخوا کی حکمران سیاسی جماعت اور فتنۃ الخوارج کا گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا،2 خوارجیوں کی آڈیو نے حقیقت بے نقاب کر دی،پی ٹی آئی کے جنوبی وزیرستان سے ایم پی اے ، آصف محسود کو ‘اپنا بندہ’ قرار دے کر اس سے بھتہ لینے اور اغوا کرنے سے روک دیا گیا-

    رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجودخارجی سرغنہ بادشاہ اورجنوبی وزیرستان میں موجودخارجی سرغنہ راکٹی کی آڈیومنظرعام پرآئی، خوارج نے کے پی کی حکمران سیاسی جماعت کے ایم پی اے آصف محسود سے خصوصی ہمدردی کا اظہار کیا، اغوا اور بھتہ لینے سے روک دیا۔

    آڈیو لیک میں سنائی دے رہا ہے کہ فتنۃ الخوارج کے راکٹی دہشتگرد نے جنوبی وزیرستان سے ایم پی اے آصف محسود کو بھتے کا پرچہ دیا اور اس کی تلاشی لی جبکہ افغانستان میں بیٹھے خارجی بادشاہ نے فوری مداخلت کی اورراکٹی کو حکم دیا کہ آصف محسود کو اغوا نہیں کیا جائے خارجی راکٹی نے کہا کچھ لے کے جان دیں ،خارجی بادشاہ نے کہا ہاں ، میں نے اس کے بارے میں معلومات کی ہیں وہ کہہ رہا ہے کہ ایم پی اے آصف محسود کو گرفتار نہیں کرنا لہذا یہ ہدایت ہے-

    خارجی بادشاہ نے کہا کہ آصف محسود خیبر پختونخوا کی حکمران سیاسی جماعت کا بندہ ہے،اس کوجانے دیا جائے اور تلاشی لینے پر اس سے معذرت کی جائے،اس کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کرنا –

    دوسری جانب خارجی راکٹی نے بھی تصدیق کی کہ اس نے آصف محسود کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، افغان خارجی عناصر کے حکم پرعمل کیا جارہاہے۔

    ماہرین کے مطابق آڈیولیک ثبوت ہے کہ کے پی حکومت نے خوارج کوسیاسی اورسماجی جگہ دی جس وجہ سے خوارج ان کواپنے ہی لوگ سمجھتے ہیں۔

  • پاکستانی کرنسی کے مقابلے بھارتی روپے کی قدر میں کمی

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے بھارتی روپے کی قدر میں کمی

    بھارتی روپیہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی روپے کے مقابلے میں بھارتی روپے کی قدر میں تقریباً 12 فیصد کمی ہوئی ہے-

    بھارتی جریدے ’دی وائر‘ میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق یہ تنزلی مئی 2025 میں آپریشن سندور اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد شروع ہوئی اور اب تک جاری ہے، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے اور بین الاقوامی مبصرین بھی بھارتی معیشت کے مستقبل پر خدشات ظاہر کر رہے ہیں بھارتی روپیہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران پاکستانی روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمزور ہوا ہے یہ عرصہ مئی 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 88 گھنٹے طویل آپریشن سندور کے بعد جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق 15 مئی 2025 کو ایک بھارتی روپیہ 3.2913 پاکستانی روپے کے برابر تھا، تاہم 18 مئی 2026 تک اس کی قدر کم ہو کر 2.9010 پاکستانی روپے رہ گئی اس طرح بھارتی کرنسی کی قدر میں مجموعی طور پر تقریباً 11.86 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ صرف 2026 کے دوران ہی اس میں 6.8 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی روپے کی یہ مسلسل کمزوری صرف امریکی ڈالر کی عالمی مضبوطی یا مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ اس سے بھار ت کی داخلی معاشی پالیسیوں اور معاشی نظم و نسق کی بنیادی خامیاں بھی نمایاں ہوتی ہیں۔

    رواں اور گزشتہ سال بھارتی روپیہ ایشیا کی بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شمار کیا گیا اسی عرصے میں بنگلہ دیشی ٹکہ کے مقابلے میں بھی بھارتی روپے کی قدر میں کمی ہوئی، جہاں ایک روپیہ 1.42 ٹکہ سے گر کر 1.28 ٹکہ تک آ گیا، جو تقریباً 10 فیصد کمی بنتی ہے۔

    مودی حکومت اکثر روپے کی کمزوری کو بیرونی دباؤ اور مغربی ایشیا کی صورتحال سے جوڑتی رہی ہے، تاہم پاکستانی روپے کے مقابلے میں مسلسل تنزلی نے اس مؤقف پر سوالات اٹھا دیے ہیں ماہرین کے مطابق اگر یہ مسئلہ صرف عالمی عوامل کا نتیجہ ہوتا تو خطے کی دیگر کرنسیاں بھی اسی شدت سے متاثر ہوتیں، مگر ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی روپے کی تنزلی کا آغاز اگرچہ فوجی کشیدگی اور سفارتی مداخلت کے دوران ہوا، لیکن اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارتی معیشت کو ساختی مسائل کا سامنا ہے پاکستان کے ساتھ موازنہ اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان نے 2025 میں دوبارہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام میں شمولیت اختیار کی اور سخت مالیاتی و معاشی اصلاحات نافذ کیں اس کے باوجود پاکستانی رو پے نے بھارتی کرنسی کے مقابلے میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔

    رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ نریندر مودی نے 2012 اور 2013 میں وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر اُس وقت کی یو پی اے حکومت کو روپے کی گرتی ہوئی قدر پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا ان کا کہنا تھا کہ کرنسی کی کمزوری دراصل حکومت کی ناکام پالیسیوں اور خراب طرزِ حکمرانی کا عکاس ہوتی ہے۔

    مودی نے اس دور میں پاکستان کے حوالے سے سخت قوم پرستانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے خود کو ایک مضبوط رہنما کے طور پر پیش کیا تھا انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یو پی اے حکومت پاکستان کو بھارتی مفادات کے خلاف اقدامات سے روکنے میں ناکام رہی، جبکہ ان کی قیادت میں بھارت اپنی برتری برقرار رکھے گا۔

    تاہم موجودہ معاشی صورتحال اور اعداد و شمار ان دعوؤں کے برعکس دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ اب خود مودی حکومت ایک ایسی کرنسی کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے جو پاکستانی روپے کے مقابلے میں بھی کمزور پڑ رہی ہے۔

    رائٹرز نے بھی بھارتی معیشت کی تباہی کو آشکار کرتے ہوئے بھارتی روپیہ کو 2026 کی ایشیاء کی بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسی قرار دے دیا۔

    رائٹرز کے مطابق بھارتی روپیہ عالمی بانڈ ییلڈ میں اضافے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، روپے کی گراؤٹ کیساتھ ساتھ بھارت میں توانائی کی قیمتوں میں بھی مسلسل اور ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے2026 میں ایشیا کی سب سے خراب کارکردگی دکھانے والی کرنسی بھارتی روپیہ مسلسل پستی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے، 2026 کے وسط تک بھارتی روپیہ 96 فی ڈالر جبکہ سال کے آخر تک 98 روپے فی ڈالر تک گر سکتا ہے۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے بھی حالیہ تجزیے میں بھارتی روپے کی گراوٹ کو مودی حکومت کے لیے تشویش کا باعث قرار دیا۔ اخبار کے مطابق بھارتی روپیہ کئی سہ ماہیوں سے بڑی کرنسیوں میں بدترین کارکردگی دکھا رہا ہے، جس کے باعث بیرونِ ملک تعلیم، کاروبار اور سفر کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے سوشل میڈیا پر بیرونِ ملک سفر پر ممکنہ ٹیکس یا سرچارج کی خبروں نے عوامی غصے کو ہوا دی، جس پر نریندر مودی نے خود وضاحت دیتے ہوئے ان اطلاعات کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیا۔

    بین الاقوامی مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ بھارتی روپے کی کمزوری صرف عالمی حالات سے جڑی ہوئی نہیں، جاپانی بینک MUFG نے مارچ میں اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی تھی کہ مغربی ایشیا کی صورتحال کچھ بھی ہو، بھارتی روپیہ رواں سال کے اختتام تک مزید دباؤ کا شکار رہ سکتا ہے، البتہ عالمی واقعات اس کمی کی شدت پر اثرانداز ہوں گے۔

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی

    اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی۔

    جیل ذرائع کے مطابق جیل مینوئل کے مطابق ملاقات کے دن بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروائی گئی ملاقات کانفرنس روم میں تقریباً 35 منٹ تک جاری رہی اور دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی،ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ سمیت مکمل طبی معائنے اور بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

  • حج 2026: مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی خطبہ حج دیں گے

    حج 2026: مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی خطبہ حج دیں گے

    ریاض:مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں مذہبی امور کی صدارت نے اعلان کیا ہے کہ مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی 26 مئی کو مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیں گے۔

    شیخ علی بن عبدالرحمن بن علی الحذیفی کو سعودی عرب اور دنیا میں قرآن کریم کے سب سے ممتاز قراء میں سے ایک سمجھا جاتا ہے مکہ مکرمہ ریجن کے قریہ القرن میں یکم رجب ہجری 1366 میں پیدا ہوئے، وہ ایک راسخ العقیدہ مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد سعودی افواج کے امام و خطیب تھے، شیخ علی الحذیفی نے ابتدائی قرآنی تعلیم اپنے قصبے میں حاصل کی، شیخ محمد بن ابراہیم الحذیفی کے حلقہ قرآن سے حفظ کیا۔

    بعد ازاں بلجرشی کمشنری کے سکول اور بلجرشی کالج سے تعلیم حاصل کی ریاض کی جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ کے شعبہ شریعہ سے 1392 ہجری میں فارغ ہوئے، انہیں بلجرشتی کمشنری کے کالج میں استاد کے طور پر تعینات کیا گیا، جہاں وہ تفسیر و توحید، النحو و الصرف اور خطاطی کی تعلیم سے وابستہ ہوگئے اس کے ساتھ بلجرشی کمشنری کی جامع مسجد میں امام و خطیب کے طور پر بھی فرائض ادا کیے۔

    شیخ الحذیفی نے 1395 ہجری میں مصر کی معروف جامعہ الازھر سے ماسٹرز اور اس کے بعد فقہ فیکلٹی اورعلوم اسلامیہ کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کیا انہیں ہجری 1397 میں اسلامی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تعینات کیا گیا فیکلٹی آف شریعہ میں توحید، فقہ کی تدریس کے فرائض کے ساتھ فیکلٹی آف حدیث اور اصول الدین کے شعبے میں بھی طلبہ کی رہنمائی کی۔

    قرآن کریم کالج میں بھی قرات کی اقسام کی تعلیم دی ان کی آواز میں قرات کی ریکارڈنگ مملکت اور بیرونی ممالک کے ریڈیو سٹیشنز میں موجود ہیں انہوں نے معروف قراء سے قرات کی سند حاصل کی، جن میں نمایاں ترین شیخ احمد عبدالعزیز الزیات شامل ہیں۔ شیخ الحذیفی مسجد قبا کے امام و خطیب، ہجری 1399 سے 1401 تک مسجد نبوی کے امام و خطیب رہے۔

    1401 میں مسجد الحرام میں امام و خطیب مقرر کیے گئے بعد ازاں 1402 سے تاحال مسجد نبوی کے امام و خطیب ہیں۔ کنگ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس میں قرآن پاک کی طباعت کے لے مصحف ریکارڈنگ نگران کمیٹی کے رکن، قرآن پاک کی طباعت کی سپریم کونسل کے رکن بھی ہیں۔

  • امسال خطبہ حج اردو، پنجابی اور پشتو میں بھی سنا جا سکے گا

    امسال خطبہ حج اردو، پنجابی اور پشتو میں بھی سنا جا سکے گا

    سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال حج کے موقع پر خطبہ حج دنیا بھر میں بولی جانے والی 35 بڑی زبانوں میں ترجمے کے ساتھ نشر کیا جائے گا تاکہ مختلف ممالک کے مسلمان اپنی زبان میں خطبہ سمجھ سکیں۔

    سعودی وزارت حج و عمرہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عازمین حج اور ناظرین تک خطبہ حج کا پیغام آسان اور مؤثر انداز میں پہنچانا ہے، خطبہ حج کو انگلش، فرنچ، انڈونیشین، ترکی، فارسی، روسی، چینی اور دیگر عالمی زبانوں سمیت کئی اہم زبانوں میں براہ راست ترجمے کے ساتھ نشر کیا جائے گاخاص طور پر پاکستان کے زائرین کیلئے خطبہ حج کو قومی زبان اردو کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں پنجابی اور پشتو میں بھی نشر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    سعودی حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے خطبہ حج دنیا بھر میں لاکھوں افراد تک پہنچایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان اس روحانی پیغام سے مستفید ہو سکیں، ماہرین کے مطابق مختلف زبانوں میں خطبہ حج کی نشریات بین الاقوامی سطح پر اسلامی تعلیمات اور حج کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

    عرب میڈیا کے مطابق ادارۂ امورِ حرمین شریفین نے اعلان کیا ہے کہ شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی رواں برس 9 ذی الحج 1447 ہجری، بروز منگل 26 مئی کو مسجد نمرہ، عرفات میں خطبۂ حج دیں گے۔

  • پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل:قومی اسمبلی میں  تاریخی قرارداد منظور

    پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل:قومی اسمبلی میں تاریخی قرارداد منظور

    قومی اسمبلی نے پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور کرلی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس کے دوران چینی وفد کی مہمانوں کی گیلری میں آمد پر ارکان نے ڈیسک بجاکر وفد کا استقبال کیا، اسپیکر کی جانب سے چینی وفد کو خوش آمدید کہا گیا خاتون اوّل آصفہ بھٹو زرداری کی جانب سے چینی وفد کا پر جوش استقبال کیا گیا، انہوں نے مہمانوں کی گیلری میں جاکر چینی وفد کے شرکاء سے مصافحہ کیا۔

    ایوان نے پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، قرارداد وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان پاک چین تعلقات کے 75سال مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہے، ایوان چینی وفد کو خوش آمدید کہتا ہے اور سی پیک پر پاک چین کوششوں کو سراہتا ہے قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان اعلان کرتا ہے کہ دنیا اگلے 75 سال میں پاک چین دوستی کو مزید مضبوط دیکھے گی۔

    قرارداد میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستی، اسٹریٹجک شراکت داری اور سی پیک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،قرارداد میں چین کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے پاک چین تعلقات کو خطے کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں ایوان نے ’آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘ سے مکمل وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

    قومی اسمبلی نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی، علاقائی روابط اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا اور اس کے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مکمل قانون ساز حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیاقرارداد میں چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین مسٹر کائی دافنگ اور ان کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور یکجہتی کا مظہر ہے، ایوان نے پارلیمانی سفارت کاری اور قانون سازی کے میدان میں تعاون کو پاک چین تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا-

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کے حوالے سے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین دوستی وقت کے ساتھ ایک مضبوط اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے، جبکہ دونوں ممالک علاقائی امن، عالمی استحکام اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ وژن رکھتے ہیں، پاکستان نے امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران مثبت اور متوازن کردار ادا کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل سفارتی رابطے جاری رکھے۔

    اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ وہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی دعوت پر 31 مارچ کو ایک روزہ دورے پر بیجنگ گئے، جہاں خطے کی صورتحال پر تفصیلی مشاور ت کے بعد 5 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا گیا، جسے دنیا کے درجنوں ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اقوام متحدہ، شنگھائی تعاو ن تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر ترقی پذیر ممالک کے حقوق اور عالمی امن کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، جس نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی ترقی، زراعت، آئی ٹی اور سماجی و اقتصادی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ اس کے ثمرات ہر پاکستانی شہری تک پہنچ سکیں، سی پیک کا تصور 2013 کے عام انتخابات کے بعد سامنے آیا، جب اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف، وہ خود اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف چین گئے اور توانائی بحران و لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے چینی قیادت سے تعاون طلب کیا۔

    انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمے کے لیے غیر معمولی تعاون فراہم کیا جس پر پاکستانی قوم ہمیشہ چین کی شکر گزار رہے گی،پارلیمانی سفارت کاری پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور آئندہ دنوں میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی۔

  • پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل،اسلام آباد میں  ثقافتی تقریب کا انعقاد

    پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل،اسلام آباد میں ثقافتی تقریب کا انعقاد

    اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر ثقافتی تقریب کا انعقاد کیا گیا-

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین منفرد آئرن برادرز ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے، چینی قیادت اور عوام نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، جبکہ دونوں ممالک کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، ہم اپنی آنے والی نسلوں کو پاک چین دوستی کی مثالیں دیں گے اور یہ دوستی آنے والی دہائیوں میں مزید مضبوط ہوگی، وزیراعظم سی پیک کے دوسرے مرحلے کی تکمیل میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط اقتصادی شراکت داری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریب میں شرکت ان کے لیے باعثِ اعزاز ہےبہار کے موسم کی طرح پاک چین تعلقات ہمیشہ بہتر سے بہترین ہوتے گئے اور دوستی کی 75 سالہ تاریخ میں کبھی خزاں کا موسم نہیں آیا، وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کی شراکت داری خطے کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

  • چین اور روس کے دومیان 20 معاہدوں پر دستخط

    چین اور روس کے دومیان 20 معاہدوں پر دستخط

    چین اور روس نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقاتوں کے بعد دونوں ممالک نے تقریباً 40 معاہدوں پر اتفاق کیا ہے، جن میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے-

    چینی صدر شی جن پنگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بلند ترین سطح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اور ماسکو ایک دوسرے کے لیے مضبوط اسٹریٹجک سہارا بنے رہیں گے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کو بلا تعطل تیل اور گیس فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے چین اور روس نے اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 20 سے زائد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں تجارت، ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔

    تقریب سے قبل دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے آغاز میں مصافحہ کیا، دستاویزات کا تبادلہ کیا اور تصاویر بنوائیں، جس کے بعد دستخطی تقریب منعقد ہوئی۔ سب سے پہلے جس دستاویز پر دستخط کیے گئےوہ “جامع اسٹریٹجک رابطہ کاری” سے متعلق مشترکہ اعلامیہ تھا،، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے اور ہمسایہ و دوستانہ تعلقات کو گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا،اس کے بعد دونوں ممالک کے حکام نے تجارت، ٹیکنالوجی، دانشورانہ املاک اور سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں کئی دیگر معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔

    روسی صدارتی دفتر کریملن کے مطابق روس اور چین کے درمیان طے پانے والے تقریباً 40 معاہدوں میں سے 20 دستاویزات پر صدر ولادیمیر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دستخط کیے گئے، جبکہ مزید 20 معاہدوں کا الگ سے اعلان کیا جائے گا۔

    کریملن نے تصدیق کی ہے کہ ملاقات میں توانائی کے منصوبے بھی زیر بحث آئے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان توانائی کے شعبے میں ایک “اہم معاہدہ” طے پایا ہے، تاہم اس کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

    مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے بعد پیوٹن اور شی جن پنگ کی ملاقات کو عالمی سطح پر خاص توجہ سے دیکھا جا رہا ہے اور دونوں دوروں کے انداز اور نتائج کا تقابل بھی کیا جا رہا ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں اور اب یہ ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بلند ترین سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں، دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ برابری اور باہمی احترام کا رویہ اختیار کیا، جس کے باعث دوطرفہ تعلقات ایک ’نئے آغاز‘ میں داخل ہو گئے ہیں، بیجنگ اور ماسکو ایک دوسرے کے لیے مضبوط اسٹریٹجک ستون بنے رہیں گے اور ہر سطح پر رابطوں اور تبادلوں کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

    شی جن پنگ نے اس موقع پر مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور روس کو ’ذمہ دار عالمی طاقتوں‘ کے طور پر بین الاقوامی انصاف کے تحفظ اور یکطرفہ دباؤ یا ’تاریخ کو الٹنے والے اقدامات‘ کے خلاف مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہےدونوں ممالک کے درمیان تجارت عالمی منڈی کے منفی رجحانات اور بیرونی دباؤ سے محفوظ ہے، جبکہ روس چین کو تیل اور گیس کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھے گا۔