Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ٹرمپ نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ گئے

    ٹرمپ نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ گئے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ہیں-

    مریکی صدر کو لے جانے والا خصوصی طیارہ انقرہ کے ہوائی اڈے پر اترا، جہاں اجلاس کے دوران نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات سمیت اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے حالانکہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ملکوں پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے فوجی معاہدوں کا اعلان کریں گے تاہم امریکی صدر نے ایک بار پھر اس اجلاس سے قبل نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس سے قبل نیٹو کے رکن ممالک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں مناسب تعاون نہیں کر رہے نیٹو کے کئی ارکان اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    اُدھر یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بڑی حد تک اپنی ذمہ داریاں پوری کیں انہوں نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ انہیں ایران کے خلاف کارروائی سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی نیٹو پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں رواں سال اپریل میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نیٹو سے نکلنے پر بالکل غور کر رہا ہوں، کیونکہ مجھے اس اتحاد سے شدید ناگواری ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سے علیحدگی کی بات کی ہو اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دیگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہیں کرتے تو امریکا اتحاد چھوڑ سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور اتحاد کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے زیر غور آ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 ممالک کے بڑے رہنما شریک ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دو ایسے ملکوں کے صدر بھی آئے ہیں جو نیٹو کا حصہ نہیں ہیں، جن میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے لی جے میونگ شامل ہیں اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے بھی اپنے وزیرِ دفاع یا وزرائے خارجہ بھیجے ہیں، اور خلیجی ممالک جیسے بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھی اپنے وزیر بھیج رہے ہیں جو امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    الجزیرہ کے مطابق دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیٹو امریکا کے بغیر بھی کسی نہ کسی صورت میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے اور یورپی ممالک ایک الگ دفاعی اتحاد بھی قائم کر سکتے ہیں، تاہم امریکا کی علیحدگی سے یورپ کو شدید دفاعی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ماہرین کے مطابق یورپ کئی اہم دفاعی شعبوں میں امریکا پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے ان میں انٹیلی جنس، نگرانی، جاسوسی، سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات کا حصول، فوجی رسد کی فراہمی، فضائی اور میزائل دفاعی نظام جیسی اہم صلاحیتیں شامل ہیں۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نیٹو سے الگ ہو جاتا ہے تو یورپی ممالک کو ان صلاحیتوں کا متبادل تیار کرنے میں کم از کم ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے تقریباً ایک کھرب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مرضی سے فوری طور پر امریکا کو نیٹو سے نہیں نکال سکتے امریکی قانون کے تحت نیٹو سے باضابطہ علیحدگی کے لیے امریکی سینیٹ میں دو تہائی اکثریت یا پھر کانگریس سے قانون کی منظوری درکار ہوگی فی الحال ایسا ہونا آسان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے متعدد قانون ساز اب بھی نیٹو کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اسی وجہ سے مستقبل قریب میں امریکا کے نیٹو سے باضابطہ انخلا کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 25ڈالر کی کمی سے 4ہزار 125ڈالر کی سطح پر آگئی آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت 2500 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 34 ہزار 936 روپے ہوگئی ہے اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 2143 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 72 ہزار 887 روپے مقرر ہوگئی ہے۔

    اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 1ڈالر 20سینٹس کی کمی سے 60ڈالر 80سینٹس کی سطح پر آگئی،کمی کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 120روپے کی کمی سے 6ہزار 559روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 103روپے کی کمی سے 5ہزار 623روپے کی سطح پر آگئی-

    ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات مقامی سونے کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں بھی سونے کے نرخوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر سونے کی فی تولہ قیمت میں 1100 روپے کمی ہوئی تھی، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں 943 روپے کم ہوئی تھی،عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 11 ڈالر سستا ہونے کے بعد 4 ہزار 174 ڈالر پر آگیا تھا۔

  • دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے پراحمد شہزاد کی بابر اعظم پر تنقید

    دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے پراحمد شہزاد کی بابر اعظم پر تنقید

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اوپنر احمد شہزاد نے بابر اعظم کے دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے پر تنقید کی ہے-

    ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احمد شہزاد نے کہا کہ بابر اعظم کو دوبارہ کپتان بنایا گیا، حالانکہ وہ پہلے بھی بطور کپتان کامیاب ثابت نہیں ہوئے تھے بابر اعظم نے گزشتہ 30 سے 32 اننگز میں تقریباً 550 رنز بنائے تھے اور اس دوران ان کی بیٹنگ فارم پر بھی مسلسل سوالات اٹھ رہے تھے، اس کے باوجود انہیں دوبارہ قیادت سونپ دی گئی۔

    احمد شہزاد کا کہنا ہے کہ کافی عرصے سے یہ بات کی جا رہی تھی کہ کپتانی کے باعث بابر اعظم کی بیٹنگ متاثر ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں ایک بار پھر کپتان مقرر کر دیا گیا، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی دوبارہ کپتانی کے خواہش مند تھے بابر اعظم کو کپتانی پسند ہے کیونکہ اس کے ساتھ شہرت، اختیارات اور دیگر سہولتیں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔

    احمد شہزاد نے کہا کہ کپتان کو خصوصی مراعات، الگ رہائش، زیادہ اختیارات اور بہتر الاؤنسز ملتے ہیں، جس کی وجہ سے بابر اعظم اس سے وابستہ ہو گئے،یہ کہنا درست نہیں کہ بابر اعظم نے کپتانی صرف پاکستان کی خاطر قبول کی، اگر ان کی کارکردگی کپتانی کے باعث متاثر ہو رہی تھی تو انہیں خود قیادت سے الگ ہو کر کسی نوجوان یا دوسرے کھلاڑی کو موقع دینا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے دوبارہ یہ ذمے داری قبول کر لی۔

  • پاکستانی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو نوبل انعام مل سکتا ہے، وکٹر گاؤ

    پاکستانی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو نوبل انعام مل سکتا ہے، وکٹر گاؤ

    چین کے سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن (سی سی جی) کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اسی طرح خطے میں امن اور سفارتی کوششوں کے لیے کام کرتے رہے تو وہ مستقبل میں نوبل امن انعام کے مستحق ہو سکتے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے ایک انٹرویو میں پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرانے اور مختلف ممالک کے درمیان رابطوں میں کردار کو سراہا،انہوں نےکہا کہ اگر یہ کوششیں اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مؤثر ثابت ہوں تو عالمی سطح پر ان کی پذیرائی ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین نے پاکستان کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ بیجنگ اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے،چینی قیادت نے بھی پاکستان کے ساتھ علاقائی امن و استحکام کے لیے تعاون کو سراہا ہے۔

  • وزیراعظم سے پولیو اوورسائیٹ بورڈ کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے پولیو اوورسائیٹ بورڈ کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے پولیو اوورسائیٹ بورڈ کے 7 رکنی وفد نے ملاقات کی-

    وفد کی قیادت روٹری کے پولیو اوورسائیٹ بورڈ کے چیئرمین مائیک میکگورن کر رہے تھے، جبکہ گیٹس فاؤنڈیشن کے صدر برائے گلوبل ڈیویلپمنٹ کرس ایلائیس، ڈبلیو ایچ او مشرقی بحیرہ روم کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی، یونیسیف، گاوی اور پاکستان میں انسدادِ پولیو کے دیگر عالمی شراکت داروں کے نمائندے بھی وفد میں شامل تھے۔

    وزیراعظم نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے ساتھ انسدادِ پولیو مہم میں تعاون پر تمام بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک کے بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور پولیو سے پاک پاکستان کے عزم پر ثابت قدم ہے پولیو کا خاتمہ ایک اہم قومی ترجیح ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے اور شراکت دار باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے اپنی کوششیں مزید تیز کریں۔

    انہوں نے خاص طور پر جنوبی خیبرپختونخوا کے پولیو ہاٹ اسپاٹس میں مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت کی وزیراعظم نے روٹری انٹرنیشنل، گیٹس فاؤنڈ یشن، عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف، کنگ سلمان ریلیف، سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن، امریکا اور دیگر عالمی شراکت داروں کی جانب سے انسدادِ پولیو کے لیے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

    انہوں نے وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفی کمال، وزیرِ مملکت برائے صحت، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو سینیٹرعائشہ رضا فاروق، نیشنل کوآرڈ ینیٹر برائے انسدادِ پولیو اور حکومتی ٹیم کی خدمات کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا اس موقع پر پولیو اوورسائیٹ بورڈ کے وفد نے پولیو کے خاتمے کے لیے حکو مت پاکستان کے اقدامات اور حالیہ نمایاں پیش رفت کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    وفد نے پولیو سے پاک پاکستان کے ہدف کے حصول کے لیے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ملاقات میں وفاقی وزیر قومی صحت مصطفی کمال، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو سینیٹر عائشہ رضا فاروق اور متعلقہ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

  • خیبرپختونخوا میں خاکروب کی آسامیوں پر ایم اے پاس افراد کے امیدوار ہونے کا انکشاف

    خیبرپختونخوا میں خاکروب کی آسامیوں پر ایم اے پاس افراد کے امیدوار ہونے کا انکشاف

    وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں 2016 سے اب تک ہونے والی تمام بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ بھرتیاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں یا نہیں-

    خیبرپختونخوا میں خاکروبوں کی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی مداخلت پر عائد پابندیوں کے باوجود بھرتیاں کی گئیں اور ایک رکن صوبائی اسمبلی کے خط کی بنیاد پر من پسند افراد کو ملازمتیں دی گئیں۔

    اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ ایم پی اے کا خط جعلی ہے، جس پر نہ دستخط موجود ہیں، نہ ریفرنس نمبر اور نہ ہی سرکاری مہر ایسے جعلی کاغذ تو میں یہاں کے کمپیوٹر سے بھی نکال دوں اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ جعلی کاغذات کم از کم ہمارے سسٹم سے تو نہ نکالیں، جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے بکھر گئے۔

    وکیل درخواست گزار کے پابندی کے دوران بھرتیاں کیے جانے کے دلائل پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر آپ کا موکل بھرتی ہو جاتا تو بھی پابندی کی خلاف ورزی تو ہونی تھی،وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ آپ کے موکل کو بھرتی کر بھی لیں تو ایم اے پاس بندا صفائی تو کرے گا نہیں۔

    جسٹس رضوی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایم اے پاس افراد بھی خاکروب کی ملازمت کے لیے درخواست دے رہے ہیں جو کلف والے کپڑے پہن کر گھومتے ہیں، جبکہ شہر میں جگہ جگہ گندگی موجود ہوتی ہے اور پڑھے لکھے خاکروب کام نہیں کرتے ایک درخواست گزار مدرسے کا کوالیفائیڈ ہے، لوگوں کی مجبوری دیکھیں کہ کیسے کیسے لوگ خاکروب بھرتی ہونا چاہتے ہیں، لوگوں کے پاس نوکری کے مواقع نہ ہونا بھی ایک المیہ ہے۔

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ درجہ چہارم پر 2 لوگ ایڈ جسٹ کر لیں تو کیا فرق پڑے گا، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخوا ست گزاروں کی عمریں 47 سال ہوچکی ہیں، اتنی رعایت قانونی طور پر ممکن نہیں،عدالت نے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  • 8 سے 14 جولائی کے دوران بارشوں کےنئے سلسلے کی پیشگوئی

    8 سے 14 جولائی کے دوران بارشوں کےنئے سلسلے کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کرتے ہوئے آئندہ ایک ہفتے کے دوران بارشوں کی شدت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،پنجاب اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی بارش اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں تک ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ 8 سے 14 جولائی کے دوران بالائی دریائی علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ متوقع ہے 11 سے 13 جولائی کے دوران بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بعض مقامات پر موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    فلڈ فورکاسٹ ڈویژن کے مطابق دریاؤں کی موجودہ صورتحال قابو میں ہے، بڑے دریاؤں میں اس وقت کسی بڑی سیلابی صورتحال کا خدشہ نہیں، جبکہ پانی کے بہاؤ کی صورتحال مستحکم ہےتربیلا اور منگلا ڈیم کی صورتحال معمول پر ہے، جبکہ بڑے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بھی مسلسل مستحکم ہے۔

  • ٕ 36 کروڑ سے زائد مالیت کی منشیات اسمگل   کی کوشش ناکام

    ٕ 36 کروڑ سے زائد مالیت کی منشیات اسمگل کی کوشش ناکام

    پاکستان کسٹمز نے کراچی انٹرنیشنل میل آفس کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی چرس برآمد کر لی۔

    پاکستان کسٹمز کے مطابق تھائی لینڈ سے آنے والے مشکوک پارسلز کی معمول کی اسکیننگ کے دوران پلاسٹک کھلونوں کے ڈبوں میں چھپائی گئی 12 کلوگ رام چرس برآمد کی گئی، جس کی مالیت 36 کروڑ 62 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے،بین الاقوامی ڈاک کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی یہ ایک بڑی کوشش تھی جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا گیا، تھائی لینڈ سے آنے والے دو مختلف پارسلز سے منشیات برآمد کی گئی ہیں جبکہ اس اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

  • شدید گرمی سےیورپ کے جنگلوں میں آگ بھڑک اٹھی، ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    شدید گرمی سےیورپ کے جنگلوں میں آگ بھڑک اٹھی، ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    جنوبی یورپ میں جنگلاتی آگ کی نئی لہر نے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث پرتگال، اسپین، فرانس، یونان اور دیگر ممالک میں آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    مختلف ممالک میں بھڑکنے والی اس جنگلاتی آگ نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کر دیا، جبکہ فرانس میں ایک بڑے شعلے کے خطرے کے پیش نظر پیر کو ہونے والی معروف سائیکل ریس ٹور ڈی فرانس کے ایک مرحلے کے دوران شائقین کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔

    پرتگال، اسپین، فرانس، یونان اور دیگر یورپی ممالک میں سینکڑوں فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اب تک 20 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے، جو نیویارک کے علاقے مین ہیٹن کے تقریباً 3 گنا رقبے کے برابر بنتا ہے،فرانس کے جنوب مغربی شہر پرپینیان کے قریب پیرینیز کے پہاڑی علاقے میں بھڑکنے والی آگ نے 4 ہزار 600 ہیکٹر سے زائد رقبہ اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد حکام نے تقریباً 10 ہزار 500 افراد کو اپنے گھروں سے فوری انخلا کی ہدایت جاری کی۔

    متاثرہ علاقے کے ایک رہائشی نے بتایا کہ آگ گھروں سے صرف 300 میٹر کے فاصلے تک پہنچ گئی تھی ہمیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ شعلے اتنی تیزی سے پھیل سکتے ہیں صورتحال انتہائی خوفناک تھی اور لوگ شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے تھے۔

    ایک بار پھر درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور اسپین میں پارہ 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہےماہرین کے مطابق مئی اور جون کی شدید گرمی کی لہروں کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے، جنہیں ہزاروں اموات کا سبب قرار دیا گیا تھا، اور اب انہی موسمی حالات نے جنگلاتی آگ کے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں سائنس دانوں کا اتفاق ہے کہ فوسل فیول کے استعمال سے پیدا ہونے والی انسانی سرگر میوں کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی شد ت اختیار کر رہی ہے، جس کے باعث ہیٹ ویوز اور دیگر شدید موسمی مظاہر کے امکانات اور شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

  • فرانسیسی صدر کے دورہ شام کے دوران ہوٹل کے قریب دھماکے

    فرانسیسی صدر کے دورہ شام کے دوران ہوٹل کے قریب دھماکے

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دورہ شام کے دوران ان کے ہوٹل کے قریب دھماکے ہوئے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ منگل کے روز اس ہوٹل کے قریب دھماکے ہوئے جہاں فرانسیسی صدر قیام کر رہے تھے صدر میکرون محفوظ رہے دھماکوں کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی اور سڑکوں کو بند کر دیا گیا ایک عینی شاہد نے بتایا کہ انہوں نے علاقے میں دھماکوں کی آواز سنی اور دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا تاہم فرانسیسی صدارتی محل ایلیزے پیلس نے کہا کہ دھماکوں کی آواز صدارتی قافلے تک نہیں پہنچی اور صدر میکرون معمول کے مطابق اپنے پروگرام میں شریک ہوئے۔

    ایلیزے پیلس کے مطابق صدر میکرون کو دھماکوں کے بارے میں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا اور وہ بعد ازاں شام کے صدر احمد الشرع سے ملاقات کے لیے پہنچے فرانسیسی صدر کی ملاقات شام کے صدارتی محل میں ہوئی، جس کی تصدیق سرکاری ٹی وی نے بھی کی-

    ایمانوئل میکرون کا یہ دورہ اس لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ یورپی یونین کے کسی ملک کے پہلے سربراہ ہیں جو احمد الشرع کی قیادت میں نئی شامی حکومت کے قیام کے بعد شام پہنچے ہیں، میکرون کے دورے نے شام میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں کو بھی نمایاں کیا ہے، جہاں نئی قیادت عالمی برادر ی سے تعلقات بہتر بنانے اور جنگ سے متاثرہ ملک کی تعمیر نو کی کوشش کر رہی ہے۔

    احمد الشرع کی قیادت میں باغی گروپوں نے 2024 میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا احمد الشرع ماضی میں القاعدہ سے منسلک گروپ کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں، تاہم اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے شام میں ایک جامع اور سب کو شامل کرنے والے نظام کے قیام کا وعدہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ملک میں تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جائے گی۔

    شام میں 13 سال تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران مختلف مسلح گروپوں نے اثر و رسوخ حاصل کیا، جن میں داعش بھی شامل تھی بشار الاسد خاندان کی پانچ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط سخت حکمرانی کے خاتمے کے بعد نئی حکومت کو ملک میں امن و استحکام قائم کرنے کے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

    احمد الشرع کی حکومت کو گزشتہ برس بھی مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات کا سامنا رہا، جہاں حکومتی فورسز اور مذہبی و نسلی اقلیتی گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک ہوئے ان واقعات کے باعث نئی حکومت کے امن، اتحاد اور شمولیت کے وعدوں پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔