وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں پیٹرول پمپس میں سرمایہ کاری کے نام پر اربوں روپے کے بڑے فراڈ کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس اسکینڈل میں کئی بااثر شخصیات، سرکاری افسران اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ مرکزی ملزم عادل اکرام کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ مختلف تحقیقاتی ادارے معاملے کی چھان بین میں مصروف ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزم عادل اکرام شہریوں کو پیٹرول پمپس کے کاروبار میں بھاری منافع اور تیز واپسی کا لالچ دے کر سرمایہ کاری پر آمادہ کرتا تھا۔ اس طریقے سے اس نے مبینہ طور پر اربوں روپے اکٹھے کیے۔
ملزم کے خلاف اسلام آباد کے تین مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور سمیت دیگر علاقوں میں بھی فراڈ کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس وقت ملزم جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش یہ اہم انکشاف بھی ہوا کہ عادل اکرام مبینہ طور پر کئی اہم سیاسی اور انتظامی شخصیات کے “فرنٹ مین” کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم میں بعض سرکاری افسران نے بھی حصہ وصول کیا اور ملزم کو مبینہ تحفظ فراہم کیا گیا۔
حکام کے مطابق تحقیقات اب صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہیں بلکہ فراڈ کے بین الاقوامی پہلوؤں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے منی لانڈرنگ کے امکان کے تحت یہ جانچ شروع کر دی ہے کہ آیا سرمایہ کاروں سے حاصل کی گئی رقم بیرون ملک منتقل تو نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق مختلف مالیاتی ریکارڈ، بینک ٹرانزیکشنز اور جائیدادوں کی چھان بین جاری ہے تاکہ متاثرہ افراد کی رقم کا سراغ لگا کر اسے برآمد کیا جا سکے۔
پیٹرول پمپس سرمایہ کاری اسکینڈل، اربوں روپے فراڈ کا انکشاف
