ایران میں ملکی دفاع کے لیے شروع کی گئی ’جان فدا‘ مہم نے غیر معمولی عوامی ردعمل حاصل کر لیا ہے، جہاں ایرانی میڈیا کے مطابق اس مہم میں رجسٹر ہونے والے شہریوں کی تعداد 3 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ خطرات کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مہم 28 فروری کو اس وقت شروع کی گئی جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد ایران میں زمینی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے عوام کو ملکی دفاع کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی گئی، جس کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں نے رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کروائی۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مختصر وقت میں اس مہم نے وسیع عوامی توجہ حاصل کی اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 30 ملین سے زائد افراد اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد ایران کی مجموعی آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا تناسب بنتی ہے، جو عوامی سطح پر ردعمل کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران عراق جنگ کے دوران تقریباً 20 لاکھ افراد رضاکارانہ طور پر محاذ پر گئے تھے، جو اس وقت کی آبادی کا تقریباً 5 سے 6 فیصد تھے۔ اس کے مقابلے میں موجودہ مہم میں چند دنوں کے اندر 3 کروڑ افراد کی رجسٹریشن ایک نمایاں فرق کو ظاہر کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس مہم کو عوامی حمایت حاصل ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں ایرانی معاشرہ دفاعی معاملات پر متحد نظر آ رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہوتی ہے تاکہ صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مختلف ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ پایا جا رہا ہے۔
ایران میں ’جان فدا‘ مہم، 3 کروڑ رجسٹریشن
