میڈرڈ: اسپین نے غزہ کی صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے تجارتی اور سیاسی معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس سے یورپی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جاری تعاون کا معاہدہ فوری طور پر ختم کرے۔ انہوں نے اندلس میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ایسی حکومت جو بین الاقوامی قوانین اور یورپی اصولوں کی خلاف ورزی کرے، اسے شراکت دار نہیں رکھا جا سکتا۔
پیڈرو سانچیز نے اسرائیل پر غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی اصولوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے فوری خاتمے پر بھی زور دیا۔
رپورٹس کے مطابق اسپین اس معاملے کو باضابطہ طور پر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اٹھانے جا رہا ہے، جو لکسمبرگ میں منعقد ہوگا۔ توقع ہے کہ اسپین اس اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ ایسوسی ایشن معاہدہ ختم کرنے کی تجویز پیش کرے گا۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں اسپین، آئرلینڈ اور سلووینیا کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کو ایک خط بھی لکھا تھا، جس میں اسرائیل پر معاہدے کی خلاف ورزی اور انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
اس خط میں اسرائیلی پارلیمنٹ کے بعض اقدامات اور مغربی کنارے میں آباد کاروں کی کارروائیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جنہیں بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسپین کا یہ مؤقف یورپی یونین کے اندر پالیسی اختلافات کو مزید واضح کر سکتا ہے اور آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
اسپین کا اسرائیل سے تجارتی معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ
