Baaghi TV


پنجاب میں آٹا مزید مہنگا، عوام پریشان

wheat floor

‎لاہور: پنجاب میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
‎تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور فی کلو 88 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس فرق کے باعث آٹے کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔
‎مارکیٹ ذرائع کے مطابق نجی کمپنیوں کی جانب سے آٹا تقریباً 180 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ 40 کلو آٹے کی بوری کی قیمت 7200 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت نے عام شہریوں کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے، خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
‎ماہرین کے مطابق گندم کی پسائی پر فی من تقریباً 400 سے 500 روپے تک لاگت آتی ہے، جس کے بعد آٹے کی مجموعی قیمت تقریباً 4000 روپے فی من بنتی ہے۔ تاہم مارکیٹ میں اس سے کہیں زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہے، جس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
‎شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں مسلسل اضافہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔
‎دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

More posts