کراچی میں ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں تجاوزات، غیر قانونی رکاوٹوں اور سرکاری زمینوں پر قبضوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ مختلف اضلاع میں کی گئی کارروائیوں کے دوران متعدد تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا، 13 ہوٹل سیل کر دیے گئے جبکہ سرکاری زمین بھی قبضہ مافیا سے واگزار کرا لی گئی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق صدر کے علاقے داؤد پوتہ روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے 13 ہوٹلوں کو سیل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہوٹل مالکان نے فٹ پاتھ اور سڑک کے کنارے غیر قانونی طور پر کرسیاں اور میزیں لگا کر کاروبار پھیلا رکھا تھا، جس کے باعث پیدل چلنے والوں اور ٹریفک کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ متعدد بار تنبیہ کے باوجود صورتحال بہتر نہ ہونے پر ہوٹلوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر کی اہم شاہراہوں اور تجارتی علاقوں میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔
ایک اور اہم کارروائی میں نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں واٹر کارپوریشن کی اورنگی ریزروائر کی سرکاری زمین لینڈ مافیا کے قبضے سے واگزار کرا لی گئی۔ ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم کے مطابق مذکورہ زمین پر کافی عرصے سے غیر قانونی قبضہ قائم تھا، جسے ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قبضے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی جاری ہے تاکہ سرکاری املاک پر دوبارہ قبضے کی کوشش نہ کی جا سکے۔
اس کے علاوہ نمائش سے گرومندر جانے والی شاہراہ کے اطراف قائم تمام تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں، جس سے سڑک کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح عالمگیر روڈ، شہید ملت روڈ اور ماڈل کالونی لیاقت علی خان روڈ پر بھی آپریشن کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات، اسٹالز اور دیگر رکاوٹوں کو ختم کیا گیا، جس سے ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔
کمشنر کراچی نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں سڑکوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری اراضی پر قائم ہر قسم کی تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
کراچی میں تجاوزات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 13 ہوٹل سیل
