وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر 5 اگست سے ان کی رہائی کے لیے ایک نئی اور بھرپور تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تحریک کا مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے کو ملک بھر میں منظم انداز میں اجاگر کرنا اور عوامی سطح پر اس حوالے سے آواز بلند کرنا ہے۔
شفیع جان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست کو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہو جائیں گے، اسی مناسبت سے پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس روز سے ایک نئی عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کو پہلے سے زیادہ منظم، مؤثر اور وسیع پیمانے پر چلایا جائے گا تاکہ عوام کی بھرپور حمایت حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے تمام حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں اور ہم خیال سیاسی قوتوں سے رابطے کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور کوشش کی جائے گی کہ اس تحریک کو مشترکہ اپوزیشن کی حمایت بھی حاصل ہو تاکہ حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے۔
اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی عدم موجودگی سے متعلق سوال کے جواب میں شفیع جان نے وضاحت کی کہ تقریباً دو ہفتے قبل علیمہ خان نے واضح ہدایت دی تھی کہ اب اڈیالہ جیل کے باہر صرف بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ہی موجود ہوں گی۔ اسی فیصلے کے بعد پارٹی کارکنوں کو وہاں جمع ہونے سے روک دیا گیا، جس کی وجہ سے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جیل کے باہر کارکنوں کی موجودگی دیکھنے میں نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی احتجاجی حکمت عملی میں وقتاً فوقتاً حالات کے مطابق تبدیلی کی جاتی ہے اور کارکنوں کو مرکزی قیادت کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ تحریک کے حوالے سے بھی تمام فیصلے پارٹی قیادت کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔
نورین نیازی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وہ ان کی ذاتی رائے تھی اور اسے پارٹی کی پالیسی یا سرکاری مؤقف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نورین نیازی خود بھی اڈیالہ جیل کے باہر اس بات کی وضاحت کر چکی ہیں کہ ان کا بیان ذاتی حیثیت میں دیا گیا تھا۔
بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے 5 اگست سے نئی تحریک شروع کرنے کا اعلان
