Baaghi TV

‎ال نینو کے اثرات بڑھنے پر 2027 پاکستان کا گرم ترین سال بن سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ

weather

‎ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر ال نینو کے اثرات مزید شدت اختیار کرتے ہیں تو سال 2027 پاکستان کی تاریخ کے گرم ترین برسوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب مستقبل کا خدشہ نہیں رہے بلکہ پاکستان میں ان کی شدت واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے، جس کے باعث شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، سیلاب اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
‎ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں موسم کے معمولات میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں شدید گرمی کی لہریں، ریکارڈ درجہ حرارت، اچانک طوفانی بارشیں، شہری سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے گہرے ہو رہے ہیں۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحرالکاہل میں ال نینو کا موسمی نظام مزید مضبوط ہوا تو 2027 نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے گرم ترین برسوں میں بھی شمار ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سمندروں کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ اور برفانی ذخائر کے تیزی سے کم ہونے کا رجحان عالمی موسمیاتی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
‎انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ بہت کم ہے۔ شدید گرمی، خشک سالی، بے ترتیب بارشیں اور اچانک آنے والے سیلاب زرعی شعبے، آبی وسائل، انسانی صحت اور معیشت پر براہ راست اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
‎بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر پاکستان نے قومی سطح پر مختلف حفاظتی اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان میں قدرتی آفات سے قبل وارننگ جاری کرنے کے جدید نظام، شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے شہری اور دیہی علاقوں میں حکمت عملی، ممکنہ سیلاب کے دوران ہنگامی امداد اور نکاسی آب کے منصوبے، جبکہ شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے بننے والی خطرناک جھیلوں کی مسلسل نگرانی شامل ہے۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدامات اہم ہیں، لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر یہ ابھی کافی نہیں۔ ان کے مطابق موسمیاتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، ماحول دوست پالیسیوں، شجرکاری، پانی کے بہتر انتظام، جدید انفراسٹرکچر اور عوامی آگاہی کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ مستقبل میں ممکنہ قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
‎انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سائنسی اداروں، نجی شعبے اور عوام کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ بروقت منصوبہ بندی اور مؤثر اقدامات ہی پاکستان کو مستقبل میں بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

More posts