Baaghi TV


ایران میں بجلی کا شدید بحران، طلبہ، مریض اور شہری روزانہ کی لوڈشیڈنگ سے پریشان

‎ایران میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بحران نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جہاں مسلسل لوڈشیڈنگ کے باعث طلبہ، مریض، کاروباری افراد اور عام شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شدید گرمی، توانائی کی قلت اور حالیہ فوجی حملوں کے بعد بجلی کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جس سے ملک کے مختلف علاقوں میں روزانہ کئی گھنٹوں کی بجلی بندش معمول بن چکی ہے۔
‎دارالحکومت تہران میں انجینئرنگ کے دو طالب علموں نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بجلی کی بندش نے ان کی تعلیمی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ امتحانات کے دوران بجلی بند ہونے سے یونیورسٹی کے سرورز کام کرنا چھوڑ گئے، جس کے نتیجے میں درجنوں امتحانات ملتوی کرنا پڑے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ غیر یقینی صورتحال نے ان کی ذہنی کیفیت پر بھی منفی اثر ڈالا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ امتحانات مقررہ وقت پر ہوں گے یا نہیں۔
‎دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش صرف تعلیم تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ صحت اور روزگار کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ گھروں میں آکسیجن مشینوں یا دیگر طبی آلات پر انحصار کرنے والے مریض شدید مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ ایسی ادویات جنہیں ٹھنڈے ماحول میں رکھنا ضروری ہوتا ہے، ان کے خراب ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
‎حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک آئس کریم فروش کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی، جس میں وہ بجلی نہ ہونے کے باعث تقریباً 180 کلوگرام آئس کریم پگھل جانے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتا دکھائی دیا۔ اس واقعے نے چھوٹے کاروباروں کو درپیش مالی نقصانات کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی۔
‎رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومت نے چند ماہ قبل دعویٰ کیا تھا کہ موسم گرما میں بجلی کی قلت پر قابو پا لیا جائے گا، تاہم حالیہ گرمی کی لہر اور جنوبی ایران میں توانائی سے متعلق تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ کئی شہروں میں روزانہ کی بنیاد پر بجلی کی طویل بندش معمول بن چکی ہے، جس سے صنعت، تجارت، تعلیم اور گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

More posts