Baaghi TV


بھارت: بھوک ہڑتالی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ کا غیرقانونی حراست کا الزام

‎بھارت میں بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد ان کی اہلیہ نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ طبی علاج کے نام پر انہیں غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا جا رہا ہے۔
‎59 سالہ سونم وانگچک 28 جون سے مبینہ طور پر یونیورسٹی امتحانی پرچہ لیک ہونے کے خلاف بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم مستعفی ہوں۔ امتحانی مواد لیک ہونے کے باعث 20 لاکھ سے زائد طلبہ کو دوبارہ امتحانات دینا پڑے تھے۔
‎پولیس کے مطابق سونم وانگچک کو ہفتے کے روز عدالتی حکم اور ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جان بچانے کے لیے فوری طبی نگرانی ضروری تھی۔
‎دوسری جانب وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے الزام لگایا کہ سرکاری اسپتال میں ان کے شوہر کو آزادانہ طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کو نجی اسپتال منتقل کرنا چاہتی تھیں، تاہم انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔
‎گیتانجلی کے مطابق اسپتال کی منزل پر تقریباً 30 پولیس اہلکار جبکہ عمارت میں مجموعی طور پر 100 سے زائد اہلکار تعینات ہیں، جس کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت سخت محدود ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طبی نگہداشت نہیں بلکہ غیرقانونی حراست ہے۔
‎انہوں نے اس معاملے پر عدالت سے بھی رجوع کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ انہیں اپنے شوہر کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کا علاج آزادانہ ماحول میں ہو سکے۔
‎ادھر اسپتال انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سونم وانگچک نے تاحال ڈاکٹروں کی تجویز کردہ طبی سہولیات اور علاج پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ اسپتال کے مطابق طبی ماہرین اور آزادانہ ماہرین کی جانب سے بارہا مشاورت کے باوجود انہوں نے ڈرپ، او آر ایس اور دیگر ادویات لینے سے انکار کیا ہے۔

More posts