Baaghi TV

فیسکو میں 12 ارب روپے کے بجلی فراڈ کیس میں 2 سابق چیف ایگزیکٹوز گرفتار

‎وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) میں مبینہ طور پر 12 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں دو سابق چیف ایگزیکٹوز کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ متعدد کمپنی ڈائریکٹرز کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
‎ایف آئی اے کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں فیسکو کے سابق چیف ایگزیکٹوز احمد سعید اور خورشید عالم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انرجی لمیٹڈ اور کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کے پانچ ڈائریکٹرز کے خلاف بھی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
‎تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ 2007ء سے 2015ء کے دوران بجلی کی خرید و فروخت میں بڑے پیمانے پر خردبرد کی گئی۔ ایف آئی اے کے مطابق منظور شدہ نرخوں کے برعکس فیسکو کو بجلی زائد قیمت پر فروخت کی جاتی رہی، جس سے قومی خزانے کو تقریباً 12 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
‎ایف آئی اے حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بعض معاہدے اور ادائیگیاں قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں تھیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
‎ایف آئی اے نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر میاں ادریس کو امریکا روانہ ہونے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ ان سے بھی تحقیقات متوقع ہیں۔ ادارے کے مطابق کیس میں مزید اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
‎حکام کا کہنا ہے کہ مالیاتی ریکارڈ، معاہدوں اور ادائیگیوں کا تفصیلی فرانزک آڈٹ کیا جا رہا ہے تاکہ تمام ذمہ دار افراد کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔
‎یہ مقدمہ حالیہ عرصے میں توانائی کے شعبے میں سامنے آنے والے بڑے مالیاتی اسکینڈلز میں شمار کیا جا رہا ہے، جس پر کاروباری اور حکومتی حلقوں کی گہری نظر ہے۔

More posts