Baaghi TV

باب المندب کی ممکنہ بندش پر عالمی تشویش، ماہرین نے معاشی بحران سے خبردار کر دیا

‎عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے بعد آبنائے باب المندب بھی متاثر یا بند ہو گئی تو دنیا کو شدید معاشی بحران، تجارتی رکاوٹوں اور توانائی کی سپلائی میں بڑے خلل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دونوں اہم سمندری راستے عالمی تجارت، تیل اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
‎رپورٹس کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش کے حوالے سے مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم ایرانی حکام نے کہا ہے کہ حوثی گروپ کی جانب سے باب المندب کو بند کرنے کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حوالے سے ایران نے کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا اور اگر اس نوعیت کا کوئی فیصلہ ہونا ہے تو وہ حوثی خود کریں گے۔
‎ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے شہریوں یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ تاہم باب المندب کی بندش سے متعلق ایران کی جانب سے کسی عملی اقدام یا اعلان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
‎معاشی اور بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ساتھ باب المندب میں بھی جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خام تیل، قدرتی گیس، خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل میں تاخیر اور لاگت میں اضافہ متوقع ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ایران اور اس کے اتحادی غیر ریاستی گروہوں کا کردار مزید اہم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں تنازع مزید بڑھا تو اس کے اثرات صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور مالیاتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

More posts